نئی دہلی :(ایجنسی)
جموں و کشمیر کو بجٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ رقم کا صرف 10 فیصد ہی دیا گیا ہے۔ 27 اکتوبر تک یعنی مالی سال کے سات ماہ گزر جانے کے بعد جموں و کشمیر کے25 محکموں کو صرف 1809 کروڑ روپے ہی ملے ہیں، جبکہ بجٹ میں 18527 کروڑ روپے دینے کی بات کی گئی تھی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی اسکیموں کے لیے زیادہ تر فنڈنگ مرکزی حکومت کرتی ہے۔ اسے نافذ کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح کی اسکیموں کے لیے اخراجات فراہم کرنا ریاستی حکومت کا کام ہے۔
ایک درجن محکمے ایسے بھی ہیں جن کو اب تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔ ان میں جل شکتی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پاور ڈیولپمنٹ، سول ایوی ایشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے شامل ہیں۔ جموں و کشمیر کے ایک سینئر اہلکار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے فنڈز کے اجرا میں مزید تاخیر ہوئی ہے۔ کئی محکمے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کام شروع نہیں کر سکے۔
فنڈز کا اجرا اس بات پر منحصر ہے کہ پہلے سے جاری کردہ فنڈ کا کتنا استعمال کیا گیا ہے۔ ’مرکز کے ذریعہ چلائی جارہی اسکیموں کے معاملے میں، یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کام کس حد تک آگے بڑھا ہے،‘حکام نے کہاکہ اس مالی سال میں ابھی پانچ ماہ باقی ہیں۔ محکمے اپنے کام میں تیزی لائیں گے اور اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔
حکام نے بتایا کہ پہلے ان اسکیموں پر زیادہ خرچ نہیں کیا جاتا تھا، لیکن اس سال ہماری توجہ پروجیکٹ کو مکمل کرنے پر ہے اور اس کے اثرات اگلے دو سہ ماہیوں میں نظر آئیں گے۔ بجٹ کے مطابق سال 2021-22 میں جل شکتی محکمہ کا خرچ سب سے زیادہ 5477 کروڑ روپے رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے 2747 کروڑ مختص کیے جانے کے باوجود اس سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا جا سکا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ تک محکمہ سابقہ مختص رقم خرچ کردے گا اور اس کے بعد حکومت کی جانب سے فنڈ جاری کردیا جائے گا۔








