بنگلور : (ایجنسی)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کےجنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبولے نے ہفتہ کو کہا کہ آر ایس ایس اپنی سرگرمیوں کی توسیع کرنے کے لیے اگلے تین برسوں میں ملک کے تمام ترقیاتی بلاکس تک پہنچے پر غور کررہا ہے ۔ کرناٹک کے دھار واڑ میں آل انڈیا ایگزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ کے اختتام کے بعد تین روزہ پروگرام کے دوران لئے گئے فیصلوں کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے ہوسبولے نے کہاکہ ہم نے اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینے کا فیصلہ لیاہے ۔ اس وقت 6,483 ترقیاتی بلاکس میں سے، 4,683 میں ہماری کی موجودگی ہے، حالانکہ ہم مارچ 2024 تک ہندوستان کے تمام ترقیاتی بلاکس تک پہنچنا چاہتے ہیں۔غور طلب ہے کہ 2024 میں لوک سبھا انتخاب بھی ہونا ہے اور اس لحاظ سے بھی آر ایس ایس کی توسیع کا منصوبہ کافی اہم ہے ۔
سنگھ نے ان لوگوں سے اپیل کی ہے جوملک بھر میں اس بنیاد پر توسیع کرنے کے لیے 2 سال تک رضاکارانہ طور پر کام کرنا اور برس 2025 تک تمام ترقیاتی بلاکس میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔ برس 2025 میں سنگھ اپنی صد سالہ تقریب منائے گا۔ آر ایس ایس کے عہدیداروںنے کہاکہ میزورم، ناگالینڈ، کشمیر اور لکش دیپ میں سنگھ کی کوئی سرگرمیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کشمیر میں اپنی شاخائیں چلا رہا تھا لیکن وہاں سے ہندوؤں کے نکلنے کے بعد سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
ہوسبولے نے کہا کہ ان ریاستوں میں پہنچنے کے بعد مقامی پرچارکوں کو متعلقہ ریاستوں میں سنگھ کی توسیع کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ سنگھ کی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ 34,000 مقامات پر شاکھائیں چلائے جا رہے ہیں جو کووڈ کی وبا کے دوران متاثر ہوئے تھے۔
ہوسبولے نے کہا کہ چونکہ یہ سال ہندوستان کی آزادی کی پلاٹینم جوبلی ہے، اس لیے سنگھ نے مجاہدین آزادی کےکئی گمنام ہیروز کے تعاون کو یاد کرنے کے لیے نمائشیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ سکھ گرو تیغ بہادر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ سنگھ روزگار پیدا کرنے اور ہنر مندی کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔
آبادی کی پالیسی کے بارے میں پوچھے جانے پر سنگھ لیڈر نے کہا کہ ملک کی آبادی کی پالیسی ہونی چاہیے جو سب پر لاگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ نے کچھ سال پہلے اس معاملے پر ایک قرارداد پاس کی تھی۔ آلودگی کو روکنے کے لیے دیوالی پر پٹاخوں پر پابندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ہوسبولے نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات تہوار کے آس پاس نہیں بلکہ سال کے آغاز میں کیے جانے چاہئیں۔








