رام پور: ( احتشام الحق آفاقی)
محمد اعظم خاں کا ڈریم پروجیکٹ جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ اب جوہر یونیورسٹی میں چک روڈ کے دائرے میں آنے والی یونیورسٹی کی تین عمارتوں کو گرانے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایس ڈی ایم کورٹ نے جوہر ٹرسٹ کی طرف سے دائر نظرثانی کو مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں جوہر یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع وائس چانسلر کی رہائش گاہ، سائنس فیکلٹی کے قریب واقع ایک عمارت اور میڈیکل کالج کا کچھ حصہ زد میں ہے۔خبر کے مطابق سماجوادی پارٹی کے رہنمااور رکن پارلیمان محمد اعظم خاںپہلے ہی کئی معاملات میں جیل میں ہیں۔ اب ان کے خلاف چل رہے مقدمات میں ایک بڑے کیس نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی چک روڈ اراضی کا معاملہ ہے۔ اس سرکاری زمین پر تجاوزات کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس معاملے میںمحمد اعظم خاں کو پھر ایک جھٹکا لگا ہے۔ ایس ڈی ایم کی عدالت نے اعظم خاں کے جوہر ٹرسٹ کی نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ ایس ڈی ایم کی عدالت نے چک روڈ کی اراضی پر سے قبضہ ہٹانے کے تحصیلدار کی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔جوہر ٹرسٹ نے ایس ڈی ایم کے اس حکم کے خلاف ریوینیو بورڈ میں درخواست دائر کی تھی جسے ریوینیو بورڈ نے مسترد کر دیا تھا۔ درخواست خارج ہونے کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 5.17 بیگھہ اراضی کو مارکنگ کرکے قبضہ میں لے لیا۔ اب یہ پوری زمین گاؤں کی سوسائٹی کو دے دی گئی ہے اور اس کی ذمہ داری عالیہ گنج کے پردھان کے سپرد کی گئی ہے۔واضح رہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی رام پور میں ایک نجی یونیورسٹی ہے۔
سماج طوادی پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمان محمد اعظم خاں اس کے تا حیات چانسلر ہیں۔ اس یونیورسٹی کو چلانے والے ٹرسٹ محمد علی جوہر ٹرسٹ کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے سال 2006 میں مراعات کیلئے منظور کیا تھا۔ چک روڈ کی اراضی، جس پر حکم آیا ہے،پر محمد علی جوہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی رہائش گاہ، فیکلٹی آف سائنس کے قریب واقع ایک عمارت اور میڈیکل کالج کا کچھ حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ چند ماہ قبل عدالت کے حکم پر انتظامیہ نے اس یونیورسٹی کی دیواروں کو تین اطراف سے گرا دیا تھا تاکہ کسانوں کو ان کے کھیتوں تک پہنچنے کا راستہ مل سکے۔ جب ان کی دیواریں گرائی گئیں تو جوہر ٹرسٹ نے اس کارروائی کے خلاف احتجاجاً ہائی کورٹ کی پناہ لی تھی۔
ہائی کورٹ نے 31 مارچ 2020 تک عمارتوں کو گرانے پر پابندی لگا دی تھی اور تحصیلدار کے حکم کے خلاف ایس ڈی ایم کورٹ میں سرویلانس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ایس ڈی ایم نے جوہر ٹرسٹ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے تحصیلدار کی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔قابل ذکر ہے کہ محمد اعظم خاں پر محمد علی جوہر یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کسانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔ سال 2019 میں 26 کسانوں نے مقدمے بھی درج کرائے تھے۔ضلع انتظامیہ نے بھی اعظم خاں کے خلاف زمین مافیا کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اعظم خاں پر چک روڈ کی زمین پر قبضہ کرکے یونیورسٹی کی باؤنڈری وال تعمیر کرنے کا الزام تھا۔ رامپور کی اے ڈی جے عدالت نے محمد اعظم خاں، ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو فرضی برتھ سرٹیفکیٹ، سرکاری اور دیگر لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے کے الزام میں درجنوں مقدمات میں جیل بھیج دیا تھا۔ تزئین فاطمہ کو اس سال کے شروع میں ضمانت مل گئی تھی لیکن محمد اعظم خاں اور عبد اللہ اعظم اب بھی سیتا پور جیل میں بند ہیں۔ جہاں وہ کورونا سمیت متعدد بیماریوں کا شکار ہوئے ۔








