نئی دہلی :(ایجنسی)
پاکستان کی جیت کے بعد جشن کے حوالے سے روزانہ متنازع بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اب اس ضمن میں بی جے پی کے ایک لیڈر نے بیان دیا ہے کہ جشن منانے والی لڑکیوں کی چمڑی ادھیڑ دینی چاہئے ۔ اس کےساتھ ہی انہوں نے ان کی شہریت بھی رد کرنے کی مانگ کی ہے ۔
جموں و کشمیر کے سینئر بی جے پی لیڈر اور سابق ایم ایل سی وکرم رندھاوا نے کہا کہ جن لوگوںنے حال ہی میں ٹی 20 ورلڈ کپ میچ میں بھارت کےخلاف پاکستان کی جیت کاجشن منایا ہے ،انہیں نہ صرف مارا پیٹا جانا چاہئے بلکہ ان کی شہریت بھی رد کردی جانی چاہئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ایک ویڈیو میں وکرم رندھاوا مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔
ویڈیو میںرندھاوا مبینہ طور پر کہتے ہیں: ’’یہ 22-23 سال کی لڑکیاں، جو گھونگھٹ میں جموں میں گھومتی ہیں۔ کشمیر میں اپنی جیکٹ ہوا میں پھینک رہی تھی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگا رہی تھیں۔یہ لڑکیاں پاکستان کی تعریف کررہی ہیں اور ان کے دل میں اس کے لیے ہمدردی ہے ۔ اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل تمام لوگوں کو پیٹا جانا چاہئے اور ان کی کھال اتار دی جائے۔ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جانا چاہئے کہ ان کی آنے والی نسلوں کو بھی بھارت مخالف نعرے یا بھارت کی سرزمین پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کا نتیجہ یاد رہے۔ صرف انہیں ہی نہیں، ان کے والدین کو بھی یہ محسوس کرنا چاہئے کہ انہوں نے کس طرح کے ناشکرے بچوں کو پیدا کیا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’شروع سے ہی ہم نے ان کی ڈگری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی شہریت منسوخ کی جائے اور انہیں مارا پیٹا جائے اور ان کی کھال اتار دی جائے۔‘‘
ویڈیو میں، وہ مبینہ طور پر مسلمانوں سے ’سڑکوں پر قبضہ کرنے’ کے بجائے وہاٹس ایپ پر نماز ادا کرنے کے لیے کہتے ہوئے بھی سنے جا رہے ہیں۔ ان کے اس تبصرہ پر مسلم کمیونٹی زور دار مخالفت کررہے ہیں ۔ کئی اہم لوگوں نے ان کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس سے رابطہ بھی کیا ہے ۔ اس معاملے میں جب انڈین ایکسپریس نے رندھاوا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کو غلط تناظر میں پیش کرنے کے لیے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
اپنے نمازپر تبصرے کے بارے میں انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت میں کشمیر مسلمانوں کے خلاف ایک پاکستانی صحافی کا بیان تھا۔ اس معاملے پر بی جے پی کے چیف ترجمان سنیل سیٹھی، رندھاوا کے بیان سے پلا جھاڑ تےنظر آئے۔ انہوں نے کہاکہ رندھاوا کے یہ ذاتی خیالات ہیں ۔ ہمارے لئے جموں وکشمیر کے تمام علاقوں کے لوگ یکساں طور پر اہم ہیں اور ہم پورے مرکز کے زیر علاقےمیں امن اور ترقی چاہتے ہیں ۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چندن کوہلی نے کہا کہ اس کا نوٹس لیا جا رہا ہے۔ وہیں پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میںکہا کہ سابق ایم ایل اے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا ری ہے ۔ جو کشمیریوں کے نسل کشی کا مطالبہ کرتےہیں اور ان کی چمڑی اتارنے کی بات کہتے ہیں ۔








