مقبوضہ بیت المقدس (ایجنسی)
امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی لابی کے رہنماؤں کے ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اسرائیلی اخباریدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی حمایت کے لیے سرگرم صہیونی رہنماؤں نے شاہی خاندان کے افراد اور وزراء سے ملاقاتیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق وفد کے ارکان میں سے ایک یہودی تاجر فل روزن بھی شامل ہے، جواس سے قبل امریکا میں اسرائیل کی سابق حکمراں جماعت لیکوڈ فرینڈز ایسوسی ایشن کا سربراہ رہ چکاہے اور سابق وزیراعظم نیتن یاہو کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ روزن نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اپنے لوگوں کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مْجھے حیرت نہیں ہوگی کہ اگر چند ماہ یا سال کے دوران ہم سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات کو معمول پر آتے دیکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکام اور شاہی خاندان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی عرب ملک اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض حکومت متحدہ عرب امارات کی طرح فلسطینیوں کے ساتھ امن کی شرط نہیں رکھے گی۔
دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں غیروابستہ تحریک کے رابطہ کار دفتر نے فلسطینی تنظیموں کو اسرائیل کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ میں ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی واضح کوشش قرار دیا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ فلسطینی تنظیموں پر پابندیاں ہٹائی جائیں، تاکہ وہ جبرکے بغیر اور آزادی کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھا سکیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی 6کمپنیوں کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کردیا تھا۔









