جدہ :(ایجنسی)
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے، جب عالمی سطح پر علاقائی کشیدگی کے حوالے سے عالمی طاقتوں کا جی سیون اجلاس جاری ہے۔ دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون نے روس چین اور ایران کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بھی مایوسی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے ان خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے طے کرنے کی کوشش کی ہے، جنہیں اسرائیل کی طرح ایران کی جوہری سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھے ہیں۔ اس عرب ریاست نے گزشتہ پیر کو ایک اعلیٰ عہدیدار کو تہران بھیجا تھا۔
نیفتالی بینیٹ نے اپنی کابینہ کو آج بتایا، ’’میں آج متحدہ عرب امارات جاؤں گا، یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کا وہاں کا پہلا دورہ ہوگا۔‘‘ وہ ولی عہد محمد بن زیاد النہیان سے ملاقات کریں گے۔









