نیویارک :(ایجنسی)
یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ روس پر یکے بعد دیگرے پابندیاں لگا رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر کچھ نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سے تیل کی کوئی بھی مصنوعات ان کے ملک میں درآمد نہیں کی جائیں گی۔
بائیڈن نے کہا کہ اگرچہ امریکی عوام کو بھی یہ قیمت چکانی پڑے گی لیکن عوام کو اپنی آزادی کے دفاع کے لیے یہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ روس یوکرین جنگ کو 14 دن ہوچکے ہیں اور اس دوران یوکرین کے کئی شہر تباہ ہوچکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکہ اور مغربی ممالک سے روس سے تمام درآمدات پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔
بائیڈن نے کہا کہ امریکہ یورپی ممالک میں ایسے اتحادیوں کی طرف دیکھ رہا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے روس پر منحصر ہیں۔ روس یورپ کی 40 فیصد گیس اور تیل کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتا ہے۔
بائیڈن نے امریکی توانائی کمپنیوں سے کہا کہ وہ قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ نہ کریں جس سے صارفین پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد کہا کہ دنیا ہمارے بارے میں بات کر رہی ہے اور جنگ کے بعد ہمیں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا ہے کہ یوکرین کے لوگوں نے کس طرح بہادری سے اپنا دفاع کیا۔
دنیا کی تمام پابندیوں کے بعد روس کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا یقینی ہے۔ لیکن صدر ولادیمیر پوتن اپنے اصرار پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین کو کسی بھی حالت میں نیٹو کا رکن نہیں بنایا جانا چاہیے جبکہ امریکہ اور نیٹو ممالک نے کہا ہے کہ ایسی کوئی تجویز ان کے سامنے نہیں ہے۔ یوکرین کے صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یوکرین کو رکنیت دینے کے لیے نیٹو ممالک پر دباؤ نہیں ڈال رہے ہیں۔









