لاہور :(ایجنسی)
پاکستان کی پنجاب قانون ساز اسمبلی میں ہفتہ کو شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ جیو نیوز کے مطابق عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے ساتھ مبینہ طور پر مار پیٹ کی۔ وہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرنے آئے تھے ۔ جیو نیوز نے بتایا کہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے ارکان نے مزاری پر حملہ کیا اور سیکورٹی گارڈز کی موجودگی میں ان کے بال کھینچے ۔ واقعہ کے بعد دوست محمد مزاری ایوان چھوڑ کر چلے گئے ۔
لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی کے درمیان مقابلہ ہونا تھا۔ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز کو دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی مسلم لیگ (ق) کے چودھری پرویز الٰہی کی حمایت کر رہی ہے۔
وہیں ڈان نیوز کے مطابق اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ایوان میں لوٹے کر پہنچ گئے اور منحرف اراکین کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی نشست کا گھیراؤ کرلیا، اس دوران ان کی جانب لوٹے بھی اچھالے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کو سخت سیکیورٹی میں ایوان سے باہر لے جایا گیا۔
ادھر حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان بھی ہاتھا پائی بھی شروع ہوگئی، صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایس ایس پی آپریشنز کے ہمراہ پنجاب پولیس کی بھاری نفری پنجاب اسمبلی پہنچ گئی ۔اس دوران اسمبلی کے اندر موجود پرویز الہٰی نے مسلم لیگ (ن) پر پولیس کو ایوان کے اندر لانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ پولیس ایوان میں آئی ہے ۔









