اردو
हिन्दी
جون 27, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھارت: غیر مسلم بھی یکساں سول کوڈ کے مخالف کیوں؟

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
229
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:روہنی سنگھ

چند روز قبل صبح میں اپنے بیٹے کو بس اسٹاپ پر لے جا کر اسکول بس کا انتظار ہی کر رہی تھی کہ ہماری سوسائٹی میں رہنے والے دو مرد حضرات، جو میری طرح بچوں کو اسکول بس میں بٹھانے آئے تھے، نے یکساں سول کوڈ کا ذکر چھیڑ دیا۔ لگتا تھا کہ دونوں نے واٹ از اپ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی۔ سنی سنائی بغیر تحقیق کی باتوں پر یقین کرکے ان کو آگے بڑھا رہے تھے۔ وہ اس بات پر خوش تھے کہ چلو اب مسلم خواتین اپنے گھروں میں ظلم ستم سے آزاد ہو جائیں گی۔
ایک حضرت تو کہہ رہے تھے کہ اگلے انتخابات کے لئے تو نریندر مودی جی نے مسلمان عورتوں کے ووٹ پکے کر لئے۔ اب ان کے مرد چاہے ان کو ووٹ دیں یا نہ دیں، سبھی مسلم عورتوں کے ووٹ تو مودی جی کے کھاتے میں چلے گئے۔ واٹ از اپ یونیورسٹی کے اسکالر کو چھیڑنا ایسے ہی ہوتا ہے کہ جیسے بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا۔ اسی لئے میں ان کی بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی۔
 مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ میں نے ایک لاعلم گھریلوخاتون جیسا رویہ اختیار کر کے پوچھا کہ مسلمان تو اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں، تو ٹھیک ہے،سمجھ میں آتا ہے مگر ان سکھوں اور قبائیلوں یعنی شڈیولڈ ٹرائبس کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں؟
میرے سوال کا کوئی معقول جواب دینے کے بجائے ان کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔ ایک نے دور کی کوڑی لا کر کہا کہ انہوں نے تو نہیں سنا کہ سکھ اور ہندو قبائلی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
 جب میں نے فون کھول کر ان کو خبر اور سکھ لیڈروں اور شمال مشرقی علاقوں کے خود حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے بیانات دکھائے، تو ان کے منہ سے بس اتنا نکلا، ”لگتا ہے کہ ان کو کوئی گمراہ کر رہا ہے۔” اسی دوران بس آ گئی اور بچے اسکول چلے گئے۔ مگر ان دونوں اسکالرز کو جیسے چپ لگی تھی۔ ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی غیر مسلم بھی یکساں سول کوڈ کا مخالف ہو سکتا ہے۔
ویسے یہ صرف ان کا قصور نہیں تھا۔ عوام کی غالب اکثریت اس یکساں سول کوڈ کو مسلمانوں کے نظریے سے دیکھتی ہے۔ ان کو نہیں معلوم کہ دیگر فرقے بھی اس کے مخالف ہیں۔ ان کو نہیں معلوم کہ اس قانون کے عمل میں آنے سے ہندو مشترکہ خاندان کا قانون بھی ختم ہو جائیگا، جس کی  وجہ سے ان کو انکم ٹیکس وغیرہ میں بھاری چھوٹ ملتی ہے۔
پھر یہ خدشہ بھی بجا ہے کہ یکساں سول کوڈ کی آڑ میں یہ بھی بتایا جائیگا کہ اب شادی کے وقت نکاح یا دیگر اقوام کی رسوم کے بجائے بس ہندو طریقے کے آگ کے ارد گرد سات پھیرے لگانے سے ہی شادی کو تسلیم کیا جائیگا۔ یہ خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں اس کی آڑ میں ہندو کوڈ یا ہندو رسوم و رواج کو دیگر اقوام پر تھوپا جائیگا۔
بھارت میں سکھ مسلمانوں کے بعد دسری سب سے بڑی اقلیت ہے۔ شادی بیاہ، وراثت و دیگر سول قوانین ان کے ہاں بھی ہندوؤں سے مختلف ہیں۔ سکھ آنند ایکٹ کے تحت شادیاں کرتے ہیں، جو ہندو میرج ایکٹ سے بلکل مختلف ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پچھلے ایک سو سالوں سے بھر پور کوششیں کر رہی ہے کہ کسی طرح سکھ ہندو کوڈ میں ضم ہو کر ہندو ازم کا ہی حصہ بن جائیں۔ مگر ابھی تک وہ اس مشن میں ناکام ہوئی ہے۔
 اسی طرح چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ اور اڈیشہ میں رہنے والے قبائیلیوں کے الگ الگ رسو م و رواج ہیں۔ بھارت کے شمال مشرق میں گارو اور خاصی قبائل کے بھی وراثت اور شادی کے اپنے طور طریقے ہیں۔ ان معاشروں میں تو عورت خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور جائیداد کی وارث خاندان کی عورت ہوتی ہے۔ ناگالینڈ میں تو عورت ہی بارات لیکر مرد کو اپنے گھر لے کر آتی ہے۔ وہاں ؟ بھیوراثت عورت سے ہی چلتی ہے۔ کیا یکساں سول کوڈ سے ان علاقوں کی بااختیار خواتین سے  اب اختیارات چھینے جائیں گے۔  
مغربی صوبہ گوا میں پرتگالی نسل کے رہنے والے پرتگالی سول قانون کی رو سے صدیوں سے اپنی سماجی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بھی اب اس نئے قضیہ سے خوف زدہ ہیں۔ خود 2018 میں لاء کمیشن آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ چونکہ بھارت مختلف فرقوں، مذاہب اور زبانوں کا ملک ہے، اس لئے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنا پیچیدہ عمل ہوگا۔ اس لئے اس کا نفاذ ضروری ہے نہ مطلوب ہے۔ اس کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فرقے اپنے عائلی قوانین میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سعی کریں اور اس سلسلے میں قوانین، رسوم و رواج میں ترمیم کریں۔
تاہم یکساں سول کوڈ کو پورے ملک میں لاگو کروانا آر ایس ایس کا دیرینہ ایجنڈا رہا ہے۔ جب 1953 میں ہندو کوڈ بل پاس ہوا، اس وقت سے ہی آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا اور دیگر دائیں بازو کی ہندو تنظیمیں یکساں سول کوڈ کا ڈھول پیٹ رہی ہیں۔ ہندو کوڈ بل نے نہ صرف ہندو خواتین کو اپنے شوہر سے طلاق لینے کا حق دیا، بلکہ عورتوں کو جائیداد میں وراثت کا حق بھی فراہم کر دیاورنہ تو قدیم ہندو دھرم میں عورت کی حیثیت ایک بے زبان جائیداد جیسی ہوتی تھی۔
ہندو دھرم میں طلاق نام کا کوئی لفظ نہیں ہوتا تھا۔ شادی ایک مقدس جنم جنم کا بندھن مانا جاتا تھا، جس کو آگ ہی الگ کر سکتی تھی۔ یعنی مرنے کے بعد چتا میں آگ لگانے سے ہی مرد اور عورت الگ ہو سکتے ہیں۔ ایک صدی قبل تو چتا بھی الگ نہیں کرتی تھی، ستی کی رسم نبھاتے ہوئے بیوی بھی شوہر کی موت کے بعد زندہ ہی اسی کی چتا پر جل کر اسی کے ساتھ راکھ ہو جاتی تھی۔ 
سینٹر فار اسٹڈی آف ڈویلپنگ سوسائٹیز کے پروفیسر ہلال احمد کہتے ہیں، ”اونچی ذات کا ہندو معاشرہ جو کہ عموما پدرانہ نوعیت کا ہے، کو اس قانون کے تحت عورتوں کو حقوق دینے پر مجبورکیا گیا تھا۔ اس ہندو برادری کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح کا قانون صرف ان ہی کے اوپر لاگو کیوں ہے، جبکہ مسلم برادری پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔”
نریندر مودی حکومت کے لیے عوام پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، پھر چاہے وہ شہریت ترمیمی قانون ہو یا جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی تنسیخی کا معاملہ ہو۔ ان تمام معاملات میں زیادہ تر بھارت کے مسلمان ہی متاثر ہو رہے تھے۔ لیکن یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ وار تو مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے کیا گیا مگر اس کی زد میں سکھ، قبائلی برادری، عیسائی اور دیگر ان گنت فرقے آرہے ہیں، جس کی وجہ سے ابھی تک حکومت یکساں سول کوڈ کا کوئی مسودہ پیش نہیں کر پا رہی ہے۔
 بس واٹ از اپ یونیورسٹیوں سے ایک بھرم پھیلایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو کنٹرول کرنا اور ان کی خواتین کو ان کے مردوں سے آزاد کرنے کا بیڑا مودی جی نے اٹھایا ہے۔ اب وہ کس طرح سکھوں اور دیگر فرقوں کو اس یکساں سول کوڈ میں کیسے شامل کرتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔  مگر یہ بات تو طے ہے کہ یکساں سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے۔

یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

آبنائے ہرمز میں حملے کے بعد امریکہ کی ایران پر فضائی کارروائی، تہران کا جوابی وار

27 جون
Kangana Ranaut comes in support of Siya Goyal Parent's.
خبریں

کیتن اگروال کیس: کنگنا رناوت سیا گوئل کے والدین کی حمایت میں سامنے آئیں

27 جون
اڈانی کو راست سمن بھیجنے دیں، مودی حکومت 14 ماہ سے روک رہی ہے: عدالت سے امریکی کمیشن
خبریں

اڈانی کو بڑا جھٹکا، امریکی عدالت نے مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے سے انکار کیا

27 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

آبنائے ہرمز میں حملے کے بعد امریکہ کی ایران پر فضائی کارروائی، تہران کا جوابی وار

Kangana Ranaut comes in support of Siya Goyal Parent's.

کیتن اگروال کیس: کنگنا رناوت سیا گوئل کے والدین کی حمایت میں سامنے آئیں

اڈانی کو راست سمن بھیجنے دیں، مودی حکومت 14 ماہ سے روک رہی ہے: عدالت سے امریکی کمیشن

اڈانی کو بڑا جھٹکا، امریکی عدالت نے مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے سے انکار کیا

شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

امریکہ ایران کشیدگی خبر

آبنائے ہرمز میں حملے کے بعد امریکہ کی ایران پر فضائی کارروائی، تہران کا جوابی وار

جون 27, 2026
Kangana Ranaut comes in support of Siya Goyal Parent's.

کیتن اگروال کیس: کنگنا رناوت سیا گوئل کے والدین کی حمایت میں سامنے آئیں

جون 27, 2026
اڈانی کو راست سمن بھیجنے دیں، مودی حکومت 14 ماہ سے روک رہی ہے: عدالت سے امریکی کمیشن

اڈانی کو بڑا جھٹکا، امریکی عدالت نے مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے سے انکار کیا

جون 27, 2026
شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

جون 26, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

آبنائے ہرمز میں حملے کے بعد امریکہ کی ایران پر فضائی کارروائی، تہران کا جوابی وار

جون 27, 2026
Kangana Ranaut comes in support of Siya Goyal Parent's.

کیتن اگروال کیس: کنگنا رناوت سیا گوئل کے والدین کی حمایت میں سامنے آئیں

جون 27, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN