نئی دہلی ؛بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کا معاملہ گرم ہوتا جارہا ہے وہیں عدالت میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے ـ سپریم کورٹ بہار میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ کئے گئے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف دائر درخواستوں پر 10 جولائی کو سماعت کرے گا۔ درخواستیں آر جے ڈی ایم پی منوج جھا، ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا، کارکن یوگیندر یادو اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (ADR) سمیت دیگر نے دائر کی ہیں۔
پیر کو سینئر وکیل کپل سبل، ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی، گوپال شنکر نارائنن اور شادان فراسات نے مشترکہ طور پر جسٹس سدھانشو دھولیا اور جویمالیہ باغچی کی جزوی بنچ کے سامنے معاملہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے معاملے کی فوری سماعت کے لیے فہرست بند کر ے کی مانگ کی۔،عدالت نے اگلی تاریخ بھی دے دی
عرضی گزاروں نے بہار میں آئندہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ عمل شفافیت اور انصاف کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت اب 10 جولائی کو ہونے والی ہے، جہاں اس معاملے پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ بہار کے انتخابی منظر نامے میں یہ معاملہ اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ووٹر لسٹ کی درستگی اور شفافیت انتخابی عمل کی ساکھ کے لیے اہم ہے۔بہار کی اہم اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور دیگر نے الیکشن کمیشن کی طرف سے شروع کی گئی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس اقدام نے بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ آر جے ڈی اور مہاگٹھ بندھن کی دیگر پارٹیوں کا الزام ہے کہ نظرثانی کا یہ عمل لاکھوں ووٹروں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سازش ہے اور اسے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی طرح نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے نے بہار کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
।








