نئی دہلی/ چنئی9 جولائی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی سے مشاورت پر جمعیۃ علماء تمل ناڈو نے فلم ‘ادے پور فائلز‘ کی مجوزہ ریلیز کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کی عرضی دائر کی ہے۔ یہ عرضی حاجی حسن احمد جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تمل ناڈوکی جانب سے داخل کی گئی ہے، جس کا سیریل نمبر 105184/2025 ہے۔
عرضی گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ریاستی حکومت، وزارت اطلاعات و نشریات اور سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) کو ہدایت دے کہ فلم کی ریلیز فی الفور معطل کی جائےاور اس کے مواد کا قانونی دائرہ کار میں دوبارہ جائزہ لے کر ضروری ترمیمات کی جائیں۔
عرضی گزار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلم کا مواد نہایت اشتعال انگیزاور نفرت آمیز ہے، جو ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ٹریلر اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم میں ایک حساس فرقہ وارانہ واقعہ کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو شدت پسند، بے رحم اور دہشت گردی سے وابستہ کمیونٹی کے طور پر دیکھایا گیا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ فلم کے ٹریلر میں دارالعلوم دیوبند جیسے معتبر دینی ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’سر تن سے جدا‘ کے نعرے کو براہِ راست دیوبند سے جوڑتے ہوئے، ایک ایسے شخص کی تصویر دکھائی گئی ہے جو دارالعلوم کے ذمہ دار سے مشابہ ہےجو کہ محض ایک ادارے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ایک علمی اور روحانی مرکز پر سنگین حملہ ہے۔فلم میں سب سے زیادہ قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ بی جے پی کی سابق ترجمان کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی شان میں اس گستاخی پر مبنی بیان کو شامل کیا گیا ہے جس پر عالمی سطح پر احتجاج ہوا اور جس کے باعث پارٹی نے اسے برطرف کر دیا۔
عرضی گزار کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئینِ ہند اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن اس آزادی پر عوامی نظم، اخلاقیات اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے آئینی حدود بھی عائد ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ CBFC نے فلم کی جانچ اور منظوری میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں نبھانے میں غفلت برتی ہے۔حاجی حسن احمد بتایا کہ 4 جولائی 2025 کو ریاستی حکام کو تحریری طور پر نمائندگی دی تھی تاکہ فلم کی ریلیز روکی جائے، تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ہم نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا ہے اور اس سے فوری عبوری حکم جاری کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ فلم کو سینما گھروں، اوٹی ٹی پلیٹ فارمز یا سوشل میڈیا پر اس وقت تک نشر نہ کیا جائے جب تک کہ اس کا مواد قانونی طور پر دوبارہ جانچ کر درست نہ کردیا جائے(۔سورس:پریس ریلیز)








