یمن کے حوثی جنگجو اسرائیل اور امریکا کے لیے درد سر بن چکے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے حملوں کے باوجود حوثی ڈٹے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حوثیوں کی طاقت اتنی خطرناک کیسے ہو گئی؟ آخر حوثیوں کے پاس ایسا کون سا فضائی دفاع ہے جس کی وجہ سے دنیا کی طاقتور ترین فوجیں بھی بے بس نظر آتی ہیں؟اس کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے مضمرات پر روشنی ڈالتے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں کسی پر حملہ کرتی ہیں تو عموماً دشمن کو شکست ہوتی ہے۔ لیکن یمن کے حوثی جنگجو اس اصول سے مستثنیٰ ہو گئے ہیں۔ مہینوں سے ان پر میزائل گر رہے ہیں، ڈرون حملے ہو رہے ہیں، لیکن نہ تو ان کے حملے رکے اور نہ ہی ان کے حوصلے ٹوٹے۔ابھی چند ماہ قبل خبر آئی تھی کہ حوثی باغیوں نے امریکہ کے ہائی ٹیک ریپر ڈرون کو مار گرانا شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حوثیوں کے پاس ایسا کون سا فضائی دفاعی نظام ہے جس کی وجہ سے دنیا کی طاقتور ترین فوجیں بھی ناکارہ ثابت ہو رہی ہیں؟
22 امریکی ڈرون مار گرائے! امریکہ بھی دنگ ۔
حوثی باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اکتوبر 2023 سے اب تک 22 MQ-9 ریپر ڈرون مار گرائے ہیں۔ امریکہ نے بھی کچھ ڈرون کھونے کا اعتراف کیا ہے، خاص طور پر مارچ 2025 سے اب تک 67 ڈرون گرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ہر ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر ڈرون کو مار گرانے سے امریکہ کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔ حال ہی میں جب اسرائیل نے یمن پر بڑا فضائی حملہ کیا تو حوثی تنظیم ‘انصار اللہ’ نے اپنے دیسی فضائی دفاعی نظام کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار اسرائیلی لڑاکا طیاروں پر درجنوں میزائل داغے۔ اس نے اسرائیلی فوج اور امریکہ کو دنگ کر دیا۔
358 میزائل: ایرانی ٹیکنالوجی کا ایک موثر ہتھیار
حوثی فضائی دفاعی نظام کا مرکز 358 میزائل ہے، جسے حوثی صقر-1 بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی عام میزائل نہیں ہے بلکہ ایک لاؤٹرنگ میزائل ہے۔ یعنی یہ کافی دیر تک ہوا میں منڈلاتا ہے اور صحیح وقت پر نشانہ بناتا ہے۔ اس میزائل کا ٹربو جیٹ انجن اسے دوسرے راکٹ میزائلوں سے مختلف بناتا ہے۔ امریکی بحریہ کو اس کی پہلی جھلک 2019 میں اس وقت ملی جب وہ ایک جہاز سے ان میزائلوں کے پرزے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوئی۔ اب یہ میزائل یمن میں فعال ہیں اور دشمن سے لوہا کر رہےروس سے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا نیا اوتار موصول ہوا ہے۔
حوثیوں نے پرانے روسی میزائلوں کو نئی زندگی دی ہے۔ ان کے پاس روس کے ہوا سے فضا میں مار کرنے والے پرانے میزائل تھے جو دراصل مگ 29 جیسے لڑاکا طیاروں سے فائر کیے جانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ لیکن اب حوثیوں نے ان میزائلوں کے کام کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے ان پرانے ہتھیاروں کو اس طرح تبدیل کیا ہے کہ اب وہ زمین سے اڑتے ہوئے اہداف پر حملہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے R-73E کو تقیب 1 کے طور پر، R-27T کو ثقیب-2 کے طور پر اور R-77 کو تقیب-3 کے طور پر ایک نیا فارم دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے اس میں تکنیکی مدد کی ہے لیکن خود حوثی بھی ہتھیاروں میں ہیرا پھیری اور انہیں کام کرنے میں ماہر ہیں۔ بھلے ہی ان کے پاس وسائل نہ ہوں، لیکن وہ جوگاد اور ذہانت سے ایسے ہتھیار بنا رہے ہیں کہ امریکہ بھی پریشان ہو رہا ہے۔
پرانے سوویت ہتھیاروں سے بنایا نیا جنگی ہتھیار
2014 میں جب حوثی باغیوں نے یمن میں اقتدار سنبھالا تو ان کے پاس سرکاری فوج کے پاس موجود سوویت دور کے بہت سے پرانے فضائی دفاعی نظام بھی تھے۔ ان میں سے کچھ نظام اتنے پرانے تھے کہ لوگوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ اب ردی میں چلے جائیں گے، لیکن حوثی جنگجوؤں نے انہیں دوبارہ فعال کر دیا۔ ان کے پاس S-75 جیسے بڑے میزائل ہیں جو ریڈار پر کام کرتے ہیں، موبائل سسٹمز جیسے 2K12 Kub جو آسمان میں تیزی سے اڑنے والے لڑاکا طیاروں کو بھی مار گرا سکتے ہیں، اور Strela جیسے چھوٹے لیکن کارآمد میزائل ہیں جو کندھے سے فائر کیے جاتے ہیں۔









