دوٹوک:قاسم سید
غزہ میں جنگبندی پر مذاکرات کی ناکامی ایک نازک اور خطرناک مرحلہ ہے، خصوصاً جب جنگ طویل ہو چکی ہو، انسانی المیہ شدید تر ہو، اور عالمی سفارتی دباؤ کے باوجود کسی حتمی فائر بندی پر اتفاق نہ ہو سکے۔ فاقہ کشی اور بھکمری کو نسل کشی کا ہتھیار بنالیا جائے اور مٹھی بھر کھانے کے لیے جمع بھیڑ پر فائرنگ کرکے قسطوں میں قتل عام پر زبانی جمع خرچ کے علاؤہ عالمی برادری کچھ اور نہ کرے تو حالات کی بے بسی اور عرب ممالک کی شرمناک بےحسی پر صرف نوحہ ہی پڑھا جاسکتا ہے ـ اب سوال یہ ہے آگے کیا ہوگا ،کیا فلسطین کو آزاد ریاست ماننے کا جو ماحول بنایا جارہا ہے اس کی بھاری قیمت فلسطینی عوام اور حماس سے وصول کی جائے گی ـ نیویارک کانفرنس سے اس کے طاقتور اشارے ملے ہیں ـ اس میں تھوڑا وقت ہے اس درمیانی وقت میں کیا کچھ ہوسکتا ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے ـ ممکنہ طور پر درج ذیل امکانات سامنے آسکتے ہیں
1. اسرائیل کی جانب سے مکمل عسکری قبضے کی کوشش
مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں تواب اسرائیل ممکنہ طور پر غزہ کے مزید حصوں پر فوجی قبضے کی کوشش کرے گا، خاص طور پررفح میں زمینی آپریشن کو شدت دینا،خان یونس اور دیر البلح جیسے وسطی علاقوں میں دوبارہ کارروائی،شمالی غزہ میں واپس جا کر دوبارہ مزاحمت کو کچلنے کی کوشش ،یہ اقدام اسرائیل کی "فتح کی تصویر” کی تلاش کا حصہ ہوسکتا ہے تاکہ سیاسی طور پر بنیامین نیتن یاہو اندرون ملک دباؤ سے نکل سکیں
2. فلسطینی مزاحمت دوبارہ منظم ہو :مذاکرات کے دوران مزاحمتی گروہوں، خصوصاً حماس اور اسلامی جہاد نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔ اب ممکن ہے کہ:وہ مزید طویل گوریلا جنگ کی طرف جائیں،اغوا یا چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کریں ،شمالی غزہ میں دوبارہ چھاپہ مار حملے کی حکمت عملی اپنائیں ،لبنان یا مغربی کنارے سے ہم آہنگ حملے ہو سکتے ہیں
3. انسانی بحران کی مزید شدت
اگر جنگ جاری رہی تو مختلف حیلوں سے مزید ہزاروں فلسطینی شہید یا زخمی ہوں خوراک، پانی، بجلی، ادویات کا مکمل قحط پیدا ہو،حالانکہ عالمی دباؤ کے بعد اسرائیل نے غذائی و طبی امداد محدود پیمانے پر لانے کی اجازت دی ہے لیکن اس کی فوجی کارروائی بھی جاری ہے ـ آنے والے دنوں میں وبا، بدحالی، اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کا انخلاء شدت اختیار کر سکتا ہے،مہاجرین کی نئی لہر مصر کی سرحد پر دباؤ ڈال سکتی ہے،زبرفستی انخلا پر مجبور کیا جاسکتا ہے ٹرمپ یہی چاہتے ہیںـ
4. عالمی ردعمل کا شدت اختیار کرنا:اگر اسرائیل غزہ پر مکمل حملہ جاری رکھتا ہے اور مذاکرات دوبارہ بحال نہ ہوئے توجنوبی افریقہ جیسے ممالک مزید اقوام متحدہ یا عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے,عالمی عوامی مظاہرے مزید شدت اختیار کریں گے جیسا کہ نظر آنے لگا ہے ،مغربی ملکوں میں سیاسی دباؤ بڑھے گا، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک پر
5. سیاسی منظرنامے کی تبدیلی
نیتن یاہو حکومت کے گرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں
6حماس کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ فلسطینی عوام مزاحمت کو بقا کی علامت سمجھتے ہیں
مصر، قطر، ترکی اور ایران کی پوزیشن بھی نئے سرے سے ترتیب پا سکتی ہے
7. مذاکرات کی کسی اور شکل میں واپسی کا امکان:اگرچہ موجودہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں، مگرانسانی دباؤ اور بین الاقوامی دباؤ ک سبب نئی ثالثی کوشش (مثلاً چین یا روس کی شمولیت) سے بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے ـجنگ بندی کا جزوی یا وقتی معاہدہ بھی ممکن ہے، جیسے قیدیوں کے تبادلے کے لیے محدود سیزفائر ہوناـ ،مذاکرات کی ناکامی غزہ میں ایک نئے، شدید فیصلہ کن فوجی دور کا آغاز بن سکتی ہے۔ یہ وقت فلسطینی عوام کے لیے ایک مزید اندوہناک مرحلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے لیے بھی ایک دلدل بن سکتا ہے جہاں وہ عسکری طور پر جیت کر بھی سیاسی طور پر ہار جائے۔
آخر میں یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ اس نازک اور فیصلہ کن مرحلہ میں جبکہ ان کے کلمہ گو بھائیوں اور ایک بڑی انسانی آبادی کو اجتماعی نسل کشی کی طرف دھکیلا جارہا ہے عرب و مسلم دنیا کی مجرمانہ خاموشی کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی خواہ عوام ہوں یا خواص دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں بیشتر عرب ریاستیں، خصوصاً سعودی عرب، مصر، اردن، اسرائیلی بیانیے کے قریب نظر آتی ہیں یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ترکی اور ایران جیسے ممالک تنقید تو کر رہے ہیں لیکن عملی اقدام سے گریز کر رہے ہیں۔یہ خاموشی فلسطینی عوام کے لیے ایک کھلا پیغام ہے کہ ان کے حقوق کے لیے صرف وہی خود کھڑے ہو سکتے ہیں ـان کی بقا کی جنگ کوئی اور نہیں لڑے گا ـ سب یوسف کے بھائی ہیں ،خصوصا م عرب ممالک بظاہر ہمدرد مگر اچھے خریدار کی تلاش میں ـ حماس نے سات اکتوبر کو ایک جوا کھیلا تھا اس کی قیمت تو سب کو چکانی ہی ہوگی ـ کھیل جاری ہے ـ بالفور اعلامیہ کے کھلاڑی بظاہر اپنی غلطی سدھارنا چاہتے ہیں مگر کس کی اور کس قیمت پر ،یہ آنے والے دنوں میں کھل کر سامنے آجائے گا جب تک غزہ کی مزاحمت بھی اپنی سمت طے کر چکی ہوگی ممکن ہے غزہ نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد بن جائے ،لگ تو کچھ ایسا ہی رہا ہے ـ رہے نام اللہ کا ـ







