(۔ئئی دہلی:آر کے بیورو)
ہندوستانی مسلمانوں کے اکلوتے مشترکہ پلیٹ فارم مسلم پرسنل لا بورڈ کو آخر کار یوپی کے مسلمانوں کا خیال آ ہی گیاـ بورڈ گزشتہ کئی ماہ سے تحفظ اوقاف مہم چلارہا ہے لیکن بوجوہ اس نے ملک کی سب سے بڑی ریاست کو جہاں ملک میں سب سے زیادہ یعنی کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار اوقاف ہیں یکہ و تنہا چھوڑ دیا -یوپی کی مجموعی ابادی میں چار کروڑ یعنی 85•19فیصد مسلمان ہیں یہاں اب تک تحریک چلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ،ذرائع کا تو یہ کہنا ہے کہ یوپی میں سختی کو دیکھتے ہویے بورڈ نے حد درجہ احتیاط سے کام لیا تاکہ مسلمان سرکار کی ‘آزمائشوں’ سے دور رہیں اس بورڈ کی قیادت کو دوسری ریاستوں میں سرگرم رہنے کا موقع مل گیا اسی میں عافیت بھی تھی جبکہ تاریخی اعتبار سے کوئی بھی تحریک یوپی کی شمولیت کے بغیر نہ مکمل ہوتی ہے نہ کامیاب ـ بورڈ نے اتنے طویل عرصہ تک یوپی کو کیوں نظر انداز کیا یہ تو وہی بتا سکتا ہے –
بہرحال اطلاعات ہیں کہ بورڈ کل اتوار کو لکھنؤ کے اسلامک سینٹر عیش باغ کے کانفرنس ہال میں ڈھائی بجے ان ڈور میٹنگ کررہا ہے جس کے داعی انتہائی متحرک فعال بورڈ کے ترجمان اور تحفظ اوقاف مہم کمیٹی کے فاضل قومی کنوینر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ہیں ـ جب وقف تحریک کے ریاستی کنوینر مولانا خالد رشید فرنگی محلی کسی بھی طرح سے تحریک شروع کرنے یا کوئی پروگرام رکھنے کے لیے تیار نہیں ہویے تو بورڈ کو از خود یہ کام براہ راست اپنے ہاتھ میں لینا ہڑاـ گرچہ بورڈ ہر مولانا فرنگی محلی کی جگہ کسی کام کرنے والے کو کنوینر بنانے کا دباؤ ہے مگر بورڈ کی معزز قیادت اس نازک موڑ پر کوئی الجھاؤ پیدا نہیں کرنا چاہتی ،فرنگی محلی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر سرکار میں اپنے روابط بنا لیتے ہیں ـ اور با اثر شخصیات میں ہیں ـ
کل کی میٹنگ میں سرکردہ ملی،مذہبی،رہنماوں اور دانشوروں کو مدعو کیا گیا ہے ـدعوت نامہ کے مطابق ‘میٹنگ میں بورڈ کے روڈ میپ پر کام کرنے کے لیے لکھنؤ میں مقیم اہم دینی ملی رہنماؤں اور دانشوروں کے ساتھ ایک نشست رکھ کر غور کیا جائے کہ اس سلسلے میں ریاست گیر پیمانے پر پر امن اور جمہوری ذرائع سے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے ،اس کا ایک نقشہ کار مرتب کرکے اورمولانا فرنگی محل کے ساتھ کچھ معاونین اور انتظامیہ کمیٹی بناکر کام کا آغاز کیا جاسکے – اس میٹنگ کی صدارت مولانا بلال حسنی سکریٹری بورڈ کریں گے’ ـ مولانا ندوہ کے ناظم ہیں ـبتایا جاتا ہے کہ مولانا دوراندیشی اور مصلحت کے تحت یوپی میں وقف پر کوئی تحریک شروع کے حق میں نہیں ہیں ـ ان کا خیال ہے کہ اس سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ندوہ بھی متاثر ہوسکتا ہے ـ
بورڈ یوپی میں اوقاف کے تئیں کتنا سنجیدہ ہے وہ اس دعوت نامہ سے لگایا جاسکتا ہے ،امید کی جاتی ہے اس چھوٹے سے ہال میں کثیر تعداد میں بورڈ اور اوقاف کے بہی خواہ دانشور اور دینی و مذہبی رہنما شریک ہوں گے اور بہت تاخیر سے ہی سہی بسم اللہ ہو جائے گی








