اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے اس مؤقف کا دفاع کیا ہے جس میں انہوں نے غزہ سے متعلق آئندہ اقدامات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ زامیر کو اپنے خیالات بیان کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فوج کو سیاسی قیادت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری ایک بیان میں یسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج سیاسی قیادت کے احکامات کو پیشہ ورانہ انداز میں اور پُرعزم ہو کر نافذ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زامیر کی قیادت میں فوج نے حماس کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں جنگی اہداف کے حصول کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گی اور حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی سے انکار ہی اسرائیل کو مزید اقدامات پر مجبور کر رہا ہے۔
**غزہ پر قبضہ اسرائیل کو بہت مہنگا پڑے گا: یائر لیپڈاسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مطلع کر دیا ہے کہ غزہ پر قبضہ کرنا ایک "انتہائی سنگین غلطی” ہو گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ عموماً وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی بند کمرہ ملاقاتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے، مگر اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنا ضروری سمجھا۔دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر اور تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے نائب سربراہ حسین الشیخ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل قبضے کی دھمکیاں نئی خونریزی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔








