آئینہ پس آئینہ :حکیم نازش احتشام اعظمی ،دہلی
برصغیر کی تاریخ میں یونانی حکماء کا نام ایک ایسے باب کی حیثیت رکھتا ہے جو صرف علاج و معالجے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے قوم کو غلامی کے مرض سے نجات دلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی حکمت، دولت، اثر و رسوخ اور سیاسی بصیرت کو آزادی کی تحریک کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی قربانیاں محض طبی خدمات تک محدود نہ تھیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر سیاسی میدان میں بھی اپنی شجاعت کے انمٹ نقوش چھوڑے ۔اس سلسلے میں سب سے بڑا نام مسیح الملک حکیم اجمل خان (وفات: 1927) کا ہے، جو ایک عظیم طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے خوف سیاسی رہنما بھی تھے ان کی دہلی میں واقع "شریف منزل” نہ صرف ایک شاندار دواخانہ تھی، بلکہ یہ آزادی کے متوالوں کا ایک خفیہ مرکز بھی تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں مہالتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے بڑے رہنما حکیم صاحب کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھتے اور برطانوی سامراج کے خلاف حکمتِ عملی تیار کرتے تھے۔ اس منزل سے نکلنے والے فیصلے اور حکمتِ عملیاں تحریکِ آزادی کی سمت متعین کرتی تھیں۔ حکیم اجمل خان نے کانگریس کی صدارت کی اور خلافت تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
اسی طرح، "ہمدرد” کے بانی حکیم عبدالحمید دہلوی (وفات: 1999) نے بھی اپنی محنت سے حاصل کردہ تمام اثاثوں کو قوم کی خدمت میں وقف کر دیا۔ جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہوا تو انہوں نے دل کھول کر امداد فراہم کی، جس سے یہ ادارہ قائم رہا۔ ان کی اسی دور اندیشی کا نتیجہ ہے کہ آج جامعہ ہمدرد جیسی عظیم یونیورسٹی موجود ہے جو طبی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
حکیم مشتاق احمد عرف قیسری (وفات: 1952) نے اپنی حکمت کے ذریعے تحریکِ آزادی کے مجاہدین کی صحت کا خیال رکھا اور خود بھی عملی طور پر تحریک میں شامل رہے۔ پٹنہ کے حکیم فخرالدین (وفات: 1910) نے تحریک کے لیے مالی امداد فراہم کی اور ان کی حویلی مجاہدین کی پناہ گاہ بنی۔ یوپی کے قصبہ علی گنج کے حکیم عنایت اللہ خان نے 1857 کی جنگِ آزادی میں مقامی سطح پر مزاحمت کی قیادت کی۔ حیدرآباد کے حکیم محمد ایوب خان (وفات: 1950) نے بھی نظام حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے لوگوں میں قوم پرستی کا جذبہ بیدار کیا۔
ان تمام حکماء کی لازوال قربانیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کی حکمت صرف جسمانی امراض تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ذہنی اور سیاسی بیماری، یعنی غلامی کا علاج بھی جانتے تھے۔ ان طبیبوں نے اپنی اپنی حکمت، دولت اور اثر و رسوخ کو ایک عظیم مقصد کے لیے قربان کر کے تاریخ میں ایک ایسا مقام حاصل کیا ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ آزادی کی لڑائی میں ہر طبقے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے حصے کا چراغ جلایا، اور یونانی حکماء کا یہ حصہ نہ صرف روشن تھا بلکہ اس نے آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا سامان فراہم کرتا رہے گا۔











