خوراک تک رسائی کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے اقوام متحدہ کے درجہ بندی کے نظام نے سرکاری طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نصف ملین سے زائد فلسطینی تباہ کن قحط کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں بھوک، بے روزگاری اور موت شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں قحط کا اعلان ایک انسان ساختہ المیہ ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں فوری جنگ بندی، تمام قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی مکمل اور بلا روک ٹوک فراہمی کی ضرورت ہے۔
بھوک سے متعلق اقوام متحدہ کے زیر انتظام رصدگاہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ شہر قحط کی حالت میں داخل ہو چکا ہے، جو اس نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ رصدگاہ کے مطابق ایک چوتھائی آبادی شدید بھوک سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں اور یہ تعداد ستمبر کے اختتام تک چھ لاکھ اکتالیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ قحط دير البلح اور خان یونس تک پھیلنے کا خدشہ ہے، جبکہ اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ امداد کو اندر جانے کی اجازت دے۔
اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹوم فلیچر نے کہا کہ یہ قحط روکا جا سکتا تھا لیکن اسرائیل کی "منظم رکاوٹ” نے اسے جنم دیا۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ امدادی سامان کو بڑے پیمانے پر داخل ہونے دیں۔
فلیچر نے کہا کہ خوراک سرحدوں پر رکی ہوئی ہے اور اسرائیل کی رکاوٹ اس انسانی بحران کی ذمہ دار ہے۔ انھوں نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "غذا اور دیگر ضروری سامان کو بلا رکاوٹ اور وسیع پیمانے پر اندر جانے دیں، انتقام کا سلسلہ بند کریں۔”
ادھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ٹورک نے کہا کہ شمالی غزہ میں قحط اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے، اور بھوک سے اموات جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے، اور اس سے ہونے والی اموات کو بھی دانستہ قتل کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے۔”








