دہلی میں 2020 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے ملزم شرجیل امام نے ہفتہ (6 اگست) کو سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ کچھ روز قبل شرجیل کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف شمال مشرقی دہلی میں ہوئے مظاہرے کے دوران پیش آئے فسادات سے متعلق ہے۔ شرجیل امام پر الزام ہے کہ وہ فساد کی سازش کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔
استغاثہ نے عدالت میں کہا کہ یہ فساد اچانک نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ایک خطرناک سازش تھی اور اسے سوچ سمجھ کر انجام دیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ شرجیل امام، عمر خالد سمیت دیگر پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں۔ ان پر فساد کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا الزام ہے۔ اس فساد میں 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے








