کوکی _جو قبائلی ایم ایل اے نے تشدد کے دو سال بعد منی پور پہنچنے والے وزیر اعظم نریندر مودی سے بڑا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منی پور کے قبائلیوں کے لیے ایک الگ انتظامیہ یا علیحدہ یونین ٹیریٹری بنائی جائے۔ پی ایم مودی کو پیش کیے گئے میمورنڈم میں، انہوں نے کہا، چورا چند پور کے آپ کے پہلے دورے پر ہم آپ کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ آپ کے دورے کے بعد ہمیں بڑی سیاسی تبدیلی کی امید ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ منی پور کے وادی علاقے سے ہمارے لوگوں کو بھگا دیا گیا اور ان پر مظالم ڈھائے گئے۔ اکثریتی برادری نے اقلیتی قبائلیوں پر تباہی مچا دی ہے۔
‘ہندوستان’ کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریق "صرف اچھے پڑوسیوں کے طور پر امن سے رہ سکتے ہیں، دوبارہ کبھی ایک ہی چھت کے نیچے نہیں۔” اس دعوے کے ساتھ، کوکی ایم ایل ایز نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ "ایک اسمبلی کے ساتھ علیحدہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ان کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے بات چیت کو تیز کریں”۔ انہوں نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ اس سے ہی دیرپا امن، سلامتی، انصاف اور ہمارے لوگوں میں تعلق کا احساس ہو گا۔”
جولائی 2023 میں، کوکی برادری سے تعلق رکھنے والے ان 10 قبائلی ایم ایل ایز نے پرتشدد جھڑپوں کے پیش نظر مرکز سے اپنی کمیونٹی کے لیے ایک علیحدہ انتظامیہ بنانے کی اپیل کی تھی۔ اسی دوران منی پور پہنچے وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘منی پور ایک ‘منی’ ہے جو ‘بھارت ماتا’ کے تاج کی زینت ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کا تشدد قابل مذمت ہے۔ یہ نہ صرف بدقسمتی ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی سنگین ناانصافی ہے۔ ہمیں مل کر منی پور کو امن اور ترقی کی راہ پر آگے لے جانا ہے۔ ‘
میتی برادری کے لوگ وادی امپھال میں رہتے ہیں، جب کہ کوکی برادری آس پاس کی پہاڑیوں میں رہتی ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ریاست میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ صرف بات چیت اور اتحاد کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘منی پور میں بے پناہ صلاحیت ہے، لیکن تشدد ہمارے سماجی تانے بانے کو کمزور کرتا ہے۔ صرف امن اور ہم آہنگی ہی ریاست کو ہندوستان کے مشرقی خطے کے تاج میں اس کا صحیح مقام دے سکتی ہے۔’








