سعودی عرب اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک پاکستان کے درمیان بدھ کو ہونے والے ایک باہمی سکیورٹی معاہدے پر ناصرف انڈین حکومت نے اپنا ردعمل دیا ہے بلکہ ملک کے دفاعی ماہرین بھی اس معاہدے پر بات کرتے اور اس پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں
معاہدے کے بعد انڈیا میں پوچھا جانے والا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر انڈیا مستقبل میں پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ جیسا کوئی اقدام کرتا ہے تو کیا سعودی عرب پاکستان کا ساتھ دے گا؟
یہی سوال جب ہم نے سعودی عرب میں انڈیا کے سابق سفیر تلمیذ احمد سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ یہ معاہدہ انڈیا کے لیے کوئی بڑا دھچکا ہے، لیکن اگر ہم اسے طویل مدت میں دیکھیں تو یہ انڈیا کے لیے کسی بھی طرح سے اچھا نہیں ہے۔‘
تلمیذ احمد کہتے ہیں کہ ’پاکستان مغربی ایشیا میں بہت زیادہ متعلقہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب انڈیا فی الحال کہیں نظر نہیں آتا۔ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے پاکستان، ترکی اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور یہ تینوں ممالک اب خطے میں بہت اہم ہو چکے ہیں۔ آپریشن سندور کے دوران بھی یہ تینوں ممالک انڈیا کے خلاف صف آرا نظر آئے، اس لیے یہ اگر مستقبل کی بات کی جائے تو یقینی طور پر یہ انڈیا کے لیے ایک دھچکا ہو سکتا ہے۔‘
جنوبی ایشیائی سیاست کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اپنے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ ’پاکستان نے نہ صرف ایک نئے باہمی سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، بلکہ ایک ایسے ملک (سعودی عرب) کے ساتھ کیے گئے ہیں جو انڈیا کا بڑا شراکت دار بھی ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ مستقبل میں انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے سے نہیں روک پائے گا، مگر یہ ضرور ہے کہ اس نے پاکستان میں ایک اچھی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے
کنول سبل نے لکھا کہ ’اس معاہدے کا مطلب ہے کہ اب سعودی عرب کے فنڈز پاکستان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ بظاہر پاکستان کُھلے عام عرب ممالک کو اسرائیل کے خلاف جوہری سکیورٹی فراہم کرنے کی بات کر رہا ہے۔‘
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس شراکت داری میں اس معاہدے کے تحت ہونے والا ممکنہ اضافہ انڈیا کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکہ کی ڈیلاویئر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مقتدر خان کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ اگر انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو سعودی عرب اپنی فوج نہیں بھیج سکتا، لیکن اس کے پاس پیسہ ہے۔ سعودی عرب پاکستان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس امریکی ٹیکنالوجی ہے اور وہ پاکستان کو بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یقیناً یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہو گا۔‘سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی کی رائے ہے کہ وزیر اعظم مودی جو گذشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پا رہا۔
چیلانی نے لکھا کہ ’مودی نے سعودی عرب کو خوش کرنے میں برسوں گزارے ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ایک سٹریٹجک پارٹنر شپ تک پہنچانے کی کوشش کی اور سعودی عرب کے دورے کیے۔ مگر اب نریندر مودیکی سالگرہ کے موقع پر، سعودی ولی عہد نے انھیں ایک سرپرائز دیا ہے۔ اب، سعودی عرب اور پاکستان کسی بھی حملے کو دونوں پر حملے سے تعبیر کریں گے۔‘(بی بی سی میں شائع رجنیش کمار کے مضمون کا خلاصہ،یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں)











