ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے جمعرات (25 ستمبر) کو کہا کہ ان کے ملک کو اس بات کی ضمانت کی ضرورت ہے کہ اسرائیل اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس کے بعد ہی ایران اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام اور توانائی کی پیداوار کو معمول پر لانے پر غور کر سکتا ہے۔
ہمیں اس کی ضمانت کون دے گا؟’
فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرے گا، تو پیزشکیان نے جواب دیا، ‘ہمیں کون گارنٹی دے گا کہ اسرائیل ہماری جوہری تنصیبات پر خود حملہ کرکے تباہ نہیں کرے گا؟’ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پیزشکیان نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
دریں اثناء برطانیہ کے اقوام متحدہ کے ایلچی نے جمعہ (26 ستمبر) کو اعلان کیا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں ہفتے سے دوبارہ لگائی جائیں گی۔ سلامتی کونسل میں روس اور چین کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں تاخیر کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد ناکام ہو گئی۔ بعد ازاں تہران نے خبردار کیا کہ نتائج کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔
"اقوام متحدہ کی پابندیاں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔”مغربی ممالک کے اس فیصلے سے تہران کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ لگائی گئیں تو وہ سخت جواب دے گا اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے بات کرتے ہوئے پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اقوام متحدہ کی ان پابندیوں کے باوجود جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبرداریکا ارادہ نہیں ہے
ایران کی معیشت پہلے ہی بھاری پابندیوں کی زد میں ہے، جو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کو توڑنے کے بعد دوبارہ لگائی گئی تھیں۔ قبل ازیں جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ دنیا کو ایران کو اپنے جوہری اور فوجی پروگراموں کو بحال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ جون میں اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
تہران کا موقف ہے کہ اسے یورینیم کی افزودگی کا پورا حق حاصل ہے، جیسا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تمام رکن ممالک کا ہے، بشرطیکہ جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال صرف پرامن مقاصد کے لیے ہو۔ اس کے برعکس، اسرائیل NPT کا رکن نہیں ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔








