نئی دہلی (آر کے بیورو )
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے وقف پورٹل پر وقف املاک رجسٹرڈ کرنے کی سختی اور شدت کے ساتھ مہینوں مخالفت کے بعد اب اتنی ہی شدت کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے – سارا وقت ہاتھ سے نکل گیا اور صرف ایک ہفتہ باقی ہے ـاس ایک ہفتے میں یہ کام کیسے پورا ہوگا یہ ارباب بورڈ ہی جانتے ہوں گے ـ بورڈ کے سینئیر وکلا نے اس کی نزاکتوں رجسٹرڈ نہ کرنے کے انجام اور بڑے پیمانے پر املاک چھن جانے کے حقیقی خطرے کے بارے میں انتباہ کیا اور اعتراف بھی ـ
اس سلسلے میں 28 ستمبر کو بورڈ کے ذریعے نئی دہلی کے اسلامک کلچرل سینٹر میں صبح سے شام تک ایک ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں وقف پورٹل میں اندراج کی افادیت،اہمیت، لزومیت اور قانونی ضرورت کے بارے میں سپریم کورٹ کے وکلا نے تفصیل سے بتایا اور یوٹرن لینے کی وجہ بھی بتائی ،ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ورکشاپ کے منتظم تھے جو بورڈ کے ترجمان بھی ہیں ورکشاپ میں ملک کے مختلف حصوں سے کئی مسلم مذہبی جماعتوں سے مدعو کارکنان،وکلاء اور سوشل ایکٹوسٹوں نے بڑی تعداد حصہ لیا،گرچہ فیصلہ بہت تاخیر سے لیا گیا کیونکہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ سات اکتوبر ہے اور بظاہر اضافہ کا امکان مرکزی سطح سے کم ہی ہے لیکن اطلاع ہے کہ بعض ریاستوں نے تاریخ میں توسیع کا لیٹر جاری کردیا ہے مگر وکلاء نے اس پر کچھ کہنے سے گریز کیا ،آگے کیا ہوگا کیسے ہوگا،بورڈ کی وقف ایکٹ مخالف تحریک کس سمت میں چلے گی اس کا خاکہ پیش کیا گیا ،واضح رہے کہ کہ بورڈ کا ماننا تھا کہ پورٹل کا استعمال یہ ثابت کرے گا کہ ہم نے ایکٹ کو مان لیا ،ہے بہرحال اب اس کے سامنے اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے اس لیے کہ خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ،وکلا کا تو یہی کہنا ہے
ورکشاپ میں بورڈ کے سینئیر وکلا ایڈوکیٹ ایم آرشمشاد،ایڈوکیٹ نظام ہاشا،اور ایڈوکیٹ فضیل ایوبی نے تفصیل کے ساتھ شرکاء کے سوالوں کا جواب دیا،ان کے وقف پورٹل سے متعلق اشکالات سنے اور ان کا حل بتانے کی کوشش کی ـ انہوں نے بتایا کہ نئے وقف قانون کی روسے وقف بائی یوزر جو آٹھ اپریل سے پہلے رجسٹرڈ ہوگئی ہیں ان کو مانا جائے گا اس کے بعد نہیں مگر اس پر ابھی بہت کنفیوژن ہے ،اسی طرح سے ایس اے آئی پروٹیکٹ منومنٹ کو وقف سے الگ کردیا گیا ہے ،اس کا اثر سنبھل معاملہ پربھی پڑے گا،انہوں نے بتایا کہ ہم سپریم کورٹ میں پورٹل میں رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کے لیے جائیں گے مگر کب سنوائی ہوگی کہہ نہیں سکتے کیونکہ ابھی تک سی اے اے سے متعلق عرضیوں کی سماعت نہیں ہوئی ہے ـ پانچ سالوں سے عمر خالد وغیرہ کو ضمانت نہیں ملی ہے ـ انہوں نے بتایا کہ ایک تجویز یہ آئی ہے کہ وقف کو ٹرسٹ کے تحت کرلیا جائے ، مگر اس میں ایک سیٹلر کی ضرورت ہوتی ہے ہوسکتا ہے آگے جاکر کسی کی نیت خراب ہوجائے ـ یہ پائیدار حل نہیں ،وہیں متولیوں کی نیت بھی خراب ہے وہ رجسٹریشن نہیں کرانا چاہتے ہیں سرکار بھی یہی چاہتی ہے ،وکلا نے کہا کہ ہماری وقف املاک تباہی کے دہانے پر ہیں ان کو بچانا بظاہر بہت مشکل نظر آرہا ہے
دوسرے سیشن میں وکلا نے مندوبین کے وقف سے متعلق ان کے تجربات اور مسائل سنے ،ان کا قانونی حل بتایا ،جماعت اسلامی ہند کے اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمن نے وقف پورٹل پر اندراج، اس کے طریقہ کار سے متعلق میکنزم پر سیر حاصل گفتگو کی ،قیمتی تجاویز و مشورے دیے ،اور شرکاء کے سوالات کا بھرپور تسلی بخش جواب دیا ـاخر میں ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے بورڈ کی وقف ایکٹ مخالف تحریک کے آئیندہ کے خدو خال سے آگاہ کیا جس میں تین اکتوبر کو آدھے دن کا بھارت بند اور گیارہ اکتوبر کو جنتر منتر پر علامتی دھرنا و گرفتاری وغیرہ کا پروگرام شامل ہے ،انہوں نے بتایا کہ آگے بھی ورکشاپ ہوں گی ایک ہیلپ ڈیسک بنائی جائے گی ،وکلاء رہنمائی کے لیے دستیاب ہوں گے،پروگرام موضوع ،اور مندوبین کی اچھی تعداد کے لحاظ سے بہت مفید اور کامیاب رہا ،نظامت زاہد ایڈووکیٹ نے کی،ورکشاپ میں تھوڑی دیر کے لیے بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا مجددی بھی موجود رہے
(ابھی معلوم ہوا ہے کہ بورڈ کی طرف سے تین اکتوبر کو مجوزہ بھارت بند کو ملتوی کردیا گیا ہے )








