بریلی شہر 26 ستمبر کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد اور پولیس کی اندھادھند گرفتاریوں اور بلڈوزر کارروائی کے بعد سے حساس بنا ہوا ہے۔ سیاسی لیڈروں نے متاثرین کا حال جاننے کے لیے دورے کرنے کا ارادہ کیا ،انتظامیہ نے پہلے کانگریس وفد کو آنے نہیں دیا تھا ،یہی رویہ سماجوادی پارٹی کے مجوزہ وفد کے ساتھ بھی اپنایا
انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روانگی سے پہلے ہی ایس پی اور اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے سمیت کئی ممبران پارلیمنٹ کے ایک وفد، کو بریلی کے ضلع مجسٹریٹ نے جانے کی اجازت سے انکار کر دیا۔بریلی کے ضلع مجسٹریٹ نے لکھنؤ کے پولیس کمشنر اور دیگر اضلاع کے پولیس سربراہوں کو خط لکھ کر ہدایت دی کہ کسی بھی سیاسی نمائندے کو بغیر اجازت بریلی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ دہلی کے غازی پور بارڈر پر سماج وادی پارٹی کے تینوں ایم پی سڑک پر بیٹھ گئے، اور پولس انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔

وہیں سماج وادی پارٹی کے قائد حزب اختلاف بزرگ لیڈر ماتا پرساد پانڈے کے گھر پولیس پہرہ لگا ہے ہے اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ماتا پرساد پانڈے لکھنؤ میں اپنے گھر سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں اندر ہی روک دیا۔ پانڈے نے کہا، وہ ہمیں جانے نہیں دے رہے، بریلی کی ایک کمیونٹی خوفزدہ ہے، ہمارے دوسرے لوگوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔ وہ ہمیں جانے نہیں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میرے جانے سے ماحول کیسے خراب ہوگا -انیوں نے بتایا کہ اس بارے میں اکھلیش کی کو معلوم ہوگیا اطلاعات کے مطابق سماج وادی پارٹی کا ایک وفد جلد ہی بریلی روانہ ہوگا۔ ادھر دہلی سے سماج وادی پارٹی کے تین ارکان پارلیمنٹ ہریندر ملک، اقراء حسن اور محب اللہ ندوی بریلی جانے کے لیے نکلے تھے انہیں غازی پور بارڈر پر ہی روک لیا گیا ـ
ایس پی ایم پی اقرا حسن نے انڈیا ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بریلی جانے سے روکا جا رہا ہے۔ ہم وہاں ان لوگوں سے بات کرنے جا رہے ہیں جو انتظامیہ سے ڈرتے ہیں۔ "۔ I love you ” کہنا ایک آئینی حق ہے، بالکل اسی طرح جیسے "میں مہادیو سے پیار کرتا ہوں” اور "میں شری رام سے محبت کرتا ہوں” ایک حق ہے۔ آج پولیس انتظامیہ حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہے لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی آئینی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ آپ وزیر اعلیٰ کی زبان سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اتر پردیش میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ کس کی ڈینٹنگ اور پینٹنگ کی بات کر رہا ہے؟
واضح رہے کہ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ایس پی کے نمائندوں کے بریلی پہنچنے پر حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر وفد کے ارکان کی نقل و حرکت پر خصوصی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ سنبھل میں سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی پولیس نے ضیاءالرحمن برق ایم پی کی سرگرمیوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کو کسی بھی صورت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔








