تحریر:مولانا محمد رضی الاسلام ندوی
کل یعنی 5اکتوبر کو بعد نماز مغرب مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کمپلیکس ، ابو الفضل انکلیو ، جامعہ نگر نئی دہلی میں منعقدہ مسابقۂ قرآن کے اختتامی اجلاس میں شرکت کا موقع ملا – اہل علم کا بڑا مجمع تھا – اجلاس تین گھنٹے چلا – اس موقع پر بہت سی شخصیات سے ملاقات ہوئی –
جمعیۃ اہل حدیث ہر برس کل ہند سطح پر قرآن مجید کی تجوید ، حفظ اور تفسیر کے مقابلے کرواتی ہے – یہ اکیسواں مسابقہ تھا ، جو دو روز چلا – اس میں پورے ملک کے دینی مدارس و مراکز کے طلبہ نے شرکت کی – شرکا کی تعداد سات سو تھی – انھیں چھ زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا – ہر زمرے میں اول ، دوم ، سوم آنے والوں کو انعامات دیے گئے – یہ انعام زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے ، ایک دیوار گھڑی اور توصیفی سند پر مشتمل تھا –
اختتامی اجلاس میں بڑی تعداد میں اصحاب علم شریک تھے – جمعیۃ اہل حدیث کی مجلس عاملہ کے ارکان ، صوبائی شاخوں کے ذمے داران اور اکابر کے علاوہ دیگر دینی جماعتوں اور مسالک کے نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں –

ان میں پروفیسر اختر الواسع ، مولانا فضل الرحیم مجددی ، مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ، مولانا انیس الرحمٰن اعظمی عمری ، پروفیسر شہپر رسول ، جناب اے یو آصف ، جناب قاسم سید ، مولانا عبد المبین ندوی ، مولانا شیث اسماعیل تیمی اور مولانا اسحاق سلفی قابل ذکر ہیں – دو درجن سے زائد افراد کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا – انھوں نے اس مسابقے کی ستائش کی اور اس کے انعقاد پر جمعیۃ کے ذمے داروں کو مبارک باد پیش کی – اس اجلاس میں جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند کو بھی مدعو کیا گیا تھا – وہ سفر میں تھے ، اس لیے میں نے نمائندگی کی – اپنی گفتگو میں میں نے مسابقۂ قرآن مجید کے انعقاد پر جمعیۃ کے ذمے داروں کو مبارک باد دی – میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید کے سلسلے میں مسلمانوں میں دو رویّے پائے جاتے ہیں : ایک یہ کہ بغیر سمجھے بوجھے زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت کی جائے – دوسرا یہ کہ صرف اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے ، صحت کے ساتھ تلاوت سے لاپروائی برتی جائے – میں نے عرض کیا کہ یہ دونوں رویّے درست نہیں ہیں اور بے اعتدالی کے مظہر ہیں – میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید کے حفظ اور تجوید کی کوششیں محمود ہیں – قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کے صریح احکام قرآن و حدیث میں دیے گئے ہیں – اس کے انتظامات کرنا اور نئی نسل میں اس کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کرنا قابلِ تحسین عمل ہے – یہ اجلاس جمعیۃ کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی صدارت میں منعقد ہوا – آخر میں کام یاب ہونے والے طلبہ کے درمیان انعامات تقسیم کیے گئے – تمام حاضرین کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا –








