اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے با ضابطہ اعلان کی منظوری کے انتظار کے دوران، العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس معاہدے کے پہلے مرحلے کا مسودہ حاصل کر لیا ہے۔ اس پر گزشتہ روز شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے اتفاق ہوا تھا۔
••پہلا نکتہ : قیدیوں کا تبادلہ اور پائے دار امن:اس مرحلے میں اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی اسیران کے تبادلے کے طریقہ کار اور عملی اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں، جس کا مقصد پائے دار امن اور ••مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔
دوسرا نکتہ 27 مئی 2024 کے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر حتمی عمل درآمد کی تیاری سے متعلق ہے۔دوسرے نکتے کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی سرحدی آبادی والے علاقوں سے مشرق کی جانب پسپائی اختیار کرے گی، جس میں وادی غزہ، فلاڈلفیا راہ داری (محور نتساریم) اور کویت چوک شامل ہیں۔
فوج کو سرحد سے تقریباً 700 میٹر دور دوبارہ تعینات کیا جائے گا، البتہ پانچ مخصوص مقامات پر یہ فاصلہ زیادہ سے زیادہ 40 میٹر تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تفصیلات دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ نقشوں کے مطابق معاہدے کے ساتھ منسلک ہوں گی۔
••تیسرے نکتے میں کہا گیا ہے کہ 33 اسرائیلی مغویوں کی فہرست میں سے 9 بیمار اور زخمی مغویوں کو 110 فلسطینی قیدیوں (عمر قید کے سزا یافتہ) کے بدلے رہا کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ اسرائیل 1000 ایسے فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا جنھیں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد گرفتار کیا گیا لیکن وہ اس روز کے حملوں میں شریک نہیں تھے۔اس فہرست میں 50 سال سے زائد عمر کے قیدی مرد بھی شامل ہوں گے۔
••چوتھا نکتہ فلاڈلفیا راہ داری سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اسرائیلی فوج مرحلہ وار وہاں سے انخلا کرے گی۔ پہلے مرحلے کے آخری مغوی کی رہائی کے 42 ویں دن سے واپسی شروع ہوگی، جو 50 ویں دن تک مکمل ہو جائے گی۔
••پانچواں نکتہ رفح کراسنگ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق، تمام خواتین (شہری اور فوجی) قیدیوں کی رہائی کے بعد رفح کراسنگ زخمیوں اور شہریوں کی نقل و حرکت کے لیے کھول دی جائے گی۔
اسرائیل فوری طور پر کراسنگ تیار کرے گا اور روزانہ 50 زخمی فوجیوں کو 3 افراد کے ہمراہ گزرنے کی اجازت دے گا۔
کراسنگ کی کارروائیاں اگست 2024 کی مصر کے ساتھ طے شدہ مشاورت کی بنیاد پر چلیں گی۔
••چھٹے نکتے کے مطابق مریض اور زخمی شہری بھی رفح کراسنگ کے ذریعے 27 مئی 2024 کے معاہدے کی شق نمبر 12 کے مطابق منتقل کیے جائیں گے۔
••ساتویں نکتے میں اندرونِ غزہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کی تفصیلات درج ہیں۔انھیں ہتھیار اٹھائے بغیر محور نتساریم کے راستے واپس آنے کی اجازت ہو گی۔ساتویں دن پیدل چلنے والے بے گھر افراد کو شارع الرشید کے راستے شمال کی طرف واپسی کی اجازت ملے گی، اور 22 ویں دن وہ شارع صلاح الدین کے ذریعے بھی لوٹ سکیں گے۔گاڑیوں کی واپسی ساتویں دن سے شروع ہو گی، جو اسرائیلی نگرانی میں غیر جانب دار نجی کمپنی کے معائنے کے بعد ممکن ہو گی۔
••آٹھواں نکتہ انسانی امداد سے متعلق ہے، جس کے مطابق امدادی سامان کی تقسیم ثالثوں کی نگرانی میں طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ہو گی۔
مصری ذرائع کے مطابق، مصر، قطر، ترکی، امریکا، حماس اور اسرائیل کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم اس معاہدے کی عملی نگرانی کرے گی تاکہ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
حماس نے آج کہا کہ اسے ثالثوں اور امریکا کی طرف سے اسرائیل کے مکمل عمل درآمد کی ضمانتیں حاصل ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اعلان کیا تھا کہ غزہ کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے، جو شرم الشیخ میں فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا۔
غزہ کی تباہ حال پٹی میں دو سالہ جنگ کے بعد خوشی اور راحت کا ماحول دیکھنے میں آیا، جبکہ تل ابیب میں بھی سیکڑوں اسرائیلیوں نے اپنے قیدیوں کی متوقع رہائی پر جشن منایا۔









