اتوار کے روز ہونے والے تشدد کے بعد، جس میں ایک فلسطینی حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے اور اسرائیلی بمباری میں غزہ میں کم از کم 28 افراد مارے گئے، اسرائیل اور حماس دونوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی منصوبے پر دوبارہ عملدرآمد کا عزم ظاہر کیا ہے۔
تاہم، پیر کے روز بھی ہونے والے پرتشدد واقعات سے جنگ بندی متاثر ہوئی تھی، جس کے بعد یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ دونوں فریقین پر دباؤ برقرار رکھ سکے گا اور اس تنازعے کے خاتمے کے لیے پیش رفت جاری رکھ پائے گا۔
امریکی سفارتکاروں نے پیر کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم سے ملاقات کی، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کو آمادہ کرنا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کو دوبارہ بحال کریں، جو اتوار کے پرتشدد واقعات کے بعد خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ٹرمپ، جو اپنی دوسری مدت کے پہلے سال کی نمایاں خارجہ پالیسی کی کامیابی کو بچانے کی خاطر حماس اور اسرائیل دونوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، نے پیر کو کہا کہ امریکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘حماس’ کو جلد قابو میں لایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کی قیادت اسے تسلیم نہیں بھی کر رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حماس کو اندرونی سطح پر ‘کچھ بغاوت’ کا سامنا ہے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ اگر حماس کی قیادت نے صورتحال کو درست نہ کیا تو ‘ہم انہیں ختم کر دیں گے، اگر ضرورت پڑی’۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کی کارروائی میں امریکی زمینی فوج شامل نہیں ہو گی۔حماس کے مطابق، مصر، قاہرہ میں تنظیم کے جلاوطن رہنما خلیل الحیہ کے ساتھ جنگ بندی پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔تاہم، حماس اور اس کی اتحادی تنظیمیں ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ پر کسی غیر ملکی انتظام کو مسترد کرتی ہیں اور اب تک ہتھیار ڈالنے کی اپیلوں کو مسترد کرتی آئی ہیں، جو اس معاہدے پر عملدرآمد کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔(ڈی ڈبلیو)









