ووٹر لسٹوں کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے ارد گرد ملک گیر سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان، سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کی حکمراں جماعت، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کی طرف سے دائر ایک عرضی پر فوری سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ڈی ایم کے نے تمل ناڈو میں ایس آئی آر عمل شروع کرنے کے الیکشن کمیشن (ای سی) کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
جمعہ کو چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس ونود چندرن کی بنچ کے سامنے۔ وکیل وویک سنگھ نے، ڈی ایم کے کی نمائندگی کرتے ہوئے، فوری سماعت کی درخواست کی۔ چیف جسٹس نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ 11 نومبر کو درج ہونے دیں۔ڈی ایم کے آرگنائزنگ سکریٹری آر ایس۔ بھارتی نے 3 نومبر کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کے 27 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے "غیر آئینی، من مانی اور جمہوری حقوق کے لیے خطرہ” قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل آئین کے آرٹیکل 14، 19، اور 21 (مساوات کا حق، اظہار رائے کی آزادی، اور زندگی کا حق) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ڈی ایم کے کا الزام ہے کہ اس عمل سے لاکھوں حقیقی ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے من مانی طور پر خارج کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ جب ریاست پہلے ہی اسپیشل سمری ریویژن (SSR) سے گزر چکی ہے تو اتنے بڑے پیمانے پر نئے سرے سے تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔
ایس آئی آر سے حقیقی (De-facto) NRC کا ڈر :حزب اختلاف کا سب سے بڑا سوال ہے کہ انتخابی کمیشن (EC) اس عمل کے ذریعے ایک حقیقی قومی شہریوں کی رائے شماری (NRC) کی طرح کام کر رہا ہے۔ SIR کی ہدایات میں 2003/2005 کی رائے دہندگان فہرست میں رجسٹر نہ ہونے والے لوگوں پر شہریت سے متعلق دستاویزی دینے کو کہا گیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شہریت طے کرنے کا اختیار مرکز یحکومت کے پاس ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن کے پاس، جو صرف رائے دہندہ دہندوں کی فہرست کرنے کا مجاز ہے۔
بڑے پیمانے پرووٹروں کو باہر کرنے کا اندیشہ : اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ SIR کے تحت لاکھوں اصل اور اہل رائے دہندگان کو من مانے طریقے سے باہر جا سکتا ہے۔ بہار میں شروع ہونے والے پہلے مرحلے کے SIR اس خدشہ کو ہوا دیتا ہے ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں نے اندیشہ جتایا ہے کہ طریقہ کار کی خامیوں اور جلد بازی کی وجہ سے پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور غریب ووٹرز کے نام فہرست سے نکال دیے جائیں گے۔








