مہاراشٹر کی سیاست میں زمینوں پر قبضے کے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیچر کو کانگریس کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے وجے ودیٹیوار نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سارنائک پر سنگین الزامات لگائے۔ کانگریس لیڈر نے وزیر ٹرانسپورٹ پر ممبئی کے قریب میرا-بھائیندر میں چار ایکڑ زمین جس کی قیمت تقریباً 200 کروڑ روپے ہے، محض 3 کروڑ روپے میں حاصل کرنے کا الزام لگایا۔ سارنائک نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ زمین اپنے تعلیمی ادارے کے لیے خریدی ہے۔ وڈیٹیوار کے الزامات نے حکمراں مہاوتی حکومت کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ سارنائک نے انہیں سختی سے مسترد کیا ہے اور دستاویزی ثبوت کا مطالبہ کیا ہے۔ سارنائک شیوسینا شندے دھڑے سے ایم ایل اے اور وزیر ہیں۔ ای ڈی نے 2022 میں ان کی جائیداد ضبط کر لی تھی، جب شیوسینا متحد تھی۔
مہاراشٹر میں فڑنویس حکومت زمین گھوٹالے میں الجھی ہوئی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار سے جڑی پونے کے منڈھوا علاقے میں 40 ایکڑ سرکاری زمین کی متنازعہ فروخت بھی اسی سلسلہ کا حصہ ہے۔ یہ زمین رعایتی قیمت پر امادیا انٹرپرائزز نامی کمپنی کو فروخت کی گئی تھی، جسے پارتھ پوار اور اجیت کے بھتیجے مشترکہ طور پر چلاتے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس سودے میں ضروری منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے ریاستی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر خاموش
ستیہ ہندی کی رپورٹ کے مطابق اس تنازعہ نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو اسمبلی اجلاس میں اٹھائے گی اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔ دریں اثنا، شیو سینا (شندے دھڑے) نے وڈیٹیوار کے دعووں کو "انتخابی سٹنٹ” قرار دیا ۔
ایک پرانے ای ڈی کیس میں سارنائک سے ₹ 11 کروڑ مالیت کی جائیداد کی ضبطی بھی دوبارہ روشنی میں آ گئی ہے، لیکن یہ 2022 کا ہے اور اس کا نئے الزامات سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ فی الحال سرنائک کیس پر حکومت نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
مہاراشٹر کے ریونیو منسٹر چندر شیکھر بوونکولے نے کہا کہ وہ ان الزامات سے واقف ہیں، لیکن کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا، "یہ لوگ شکایتیں درج کرانے کے بجائے میڈیا میں الزامات لگانے میں زیادہ وقت لگاتے ہیں، اگر کوئی شکایت آئی تو ہم تحقیقات کا حکم دیں گے۔ پونے اراضی کیس کو دیکھیں، جب یہ معاملہ اٹھایا گیا تو حکومت نے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔”








