بنگلورو: ہفتہ کو، سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے بنگلورو، کرناٹک میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے دو روزہ لیکچر سیریز کے پہلے دن خطاب کیا۔ لیکچر کے دوران انہوں نے آر ایس ایس کو دنیا کی سب سے منفرد تنظیم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج آر ایس ایس بھارت سمیت کئی ممالک میں سماجی کاموں میں مصروف ہے۔ موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہندو سماج کو طاقت کے لیے نہیں، بلکہ قومی فخر کے لیے منظم کرنا ہے، اور یہ کہ ہندو بھارت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کوئی "غیر ہندو” ( اہندو)نہیں ہے، کیونکہ سب ایک ہی آباؤ اجداد سے ہیں اور ملک کی بنیادی ثقافت ہندو ہے۔
موہن بھاگوت نے "آر ایس ایس کا 100 سالہ سفر: نئے افق” پر ایک لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ جب آر ایس ایس جیسی منظم قوت ابھرتی ہے تو وہ اقتدار کی تلاش نہیں کرتی ہے۔ یہ معاشرے میں اہمیت نہیں چاہتی۔ یہ صرف بھارت ماتا کی شان کے لیے معاشرے کی خدمت اوراڈے منظم کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے ملک میں پہلے لوگوں کو اس بات پر یقین کرنا مشکل لگتا تھا، لیکن اب ایسا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس کی توجہ ہندو سماج پر کیوں ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہندو بھارت کے ذمہ دار ہیں۔
بھارت میں واقعی کوئی ‘غیر ہندو’ نہیں
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ انگریزوں نے ہمیں قومیت دی۔ ہم ایک قدیم قوم ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ ہر راشٹر کی اپنی اصل ثقافت ہوتی ہے۔ بہت سے باشندے ہیں، لیکن ایک اصل ثقافت ہے. ہندوستان کی اصل ثقافت یعنی سنسکرتی’ کیا ہے؟ ہم جو کچھ بھی بیان کرتے ہیں وہ ہمیں لفظ ہندو کی طرف لے جاتا ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ بھارت میں واقعی کوئی ‘غیر ہندو’ نہیں ہے، اور یہ کہ تمام مسلمان اور عیسائی ‘ایک ہی آباؤ اجداد کی اولاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاید وہ یہ نہیں جانتے، یا وہ بھول گئے۔
ہندو ہونے کا مطلب ہے بھارت کے لیے ذمہ دار ہونا۔:انہوں نے کہا کہ دانستہ یا نادانستہ ہر کوئی بھارتیہ سنسکرتی’ کی پیروی کرتا ہے، اس لیے کوئی بھی غیر ہندو نہیں ہے، اور ہر ہندو کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ہندو ہے،کیونکہ ہندو ہونے کا مطلب بھارت کے لیے ذمہ دار ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم ہندو راشٹر ہے اور سناتن دھرم کی ترقی بھارت کی ترقی ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس کے لیے راستہ آسان نہیں رہا ہے اور تنظیم کو تقریباً 60-70 سالوں سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس میں دو پابندیاں اور رضاکاروں پر پرتشدد حملے شامل ہیں۔
"سماج میں ہماری کچھ ساکھ ہے” –
انہوں نے کہا کہ ہم پر دو بار پابندی لگائی گئی۔ تیسری بار عائد کی گئی تھی، لیکن یہ کوئی قابل ذکر پابندی نہیں تھی۔ مخالفت ہوئی، تنقید ہوئی۔ سوئم سیوک کو قتل کیا گیا۔ ہماری ترقی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ لیکن سوئم سیوک اپنا سب کچھ سنگھ کو دیتے ہیں اور بدلے میں کسی چیز کی امید نہیں رکھتے۔ اس بنیاد پر ہم نے ان تمام حالات پر قابو پا لیا اور اب اس پوزیشن میں ہیں کہ معاشرے میں ہماری کچھ ساکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صد سالہ سال میں آر ایس ایس اپنے کام کو ہر گاؤں اور سماج کے ہر طبقے، تمام ذاتوں اور طبقات تک پھیلانا چاہتی ہے۔ (نوبھارت ٹائمس کے ان پٹ کے ساتھ)








