اٹاوہ، 9 نومبر:الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے چلائی جا رہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (S.I.R.) مہم کے تعلق سے عوام میں بیداری اور شبہات کے ازالہ کے مقصد سے جاگروک مسلم مت داتا منچ، اٹاوہ کے زیر اہتمام، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے تعاون سے ایک اہم بیداری و لٹریسی ورکشاپ اسلامیہ گرلز انٹر کالج، اردو محلہ، اٹاوہ میں منعقد ہوئی۔پروگرام کی صدارت معروف دینی و سماجی شخصیت حافظ محمد احمد چشتی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا طارق شمسی نے انجام دیے۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے سینئر ایڈوکیٹ نوفل معراج ایڈوکیٹ تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی S.I.R. مہم محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ جمہوری ڈھانچے کو مضبوط کرنے کا بنیادی عمل ہے۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ انتخابی فہرست میں اپنے نام کے اندراج، ترمیم اور تصدیق میں پوری سنجیدگی کے ساتھ حصہ لے۔ اگر ہم نے غفلت برتی تو نہ صرف ووٹ کا حق متاثر ہوگا بلکہ نمائندگی کا توازن بھی بگڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی.ایل.او. عوام تک نہ پہنچ سکیں تو لوگ خود بی۔ایل۔او۔ سے رابطہ کرکے اپنی معلومات فراہم کریں، تاکہ یہ مہم کامیابی سے ہم کنار ہو اور ہمارا دستوری حق محفوظ رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ S.I.R. مہم کے دوران ہر شہری کو فارم 6، 7 اور 8 کے ذریعہ نیا اندراج، تصحیح یا نام کی بحالی کا موقع دیا جاتا ہے، اس لیے عوام کو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اس موقع پر انجینئر عبداللہ شہیمی (فتح پور) نے وقف جائیدادوں کے اندراج کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقف جائیدادیں ملت کی امانت ہیں۔ ان کا اندراج وقف ’امید پورٹل‘ پر کرانا نہ صرف قانونی ضرورت ہے بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے اوقاف کی حفاظت نہ کی تو کل کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔
پروگرام کے کنوینر اور جمعیت علماء ہند اٹاوہ کے ضلعی صدر مولانا طارق شمسی نے S.I.R. مہم کے سماجی و دینی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں امانت کی ادائیگی کو ایک بنیادی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ ووٹ بھی ایک امانت ہے، اور اس کا درست اندراج دراصل قوم و ملت کے حق کی حفاظت ہے۔انہوں نے کہا کہ بیداری مہمات اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب لوگ انہیں ذاتی اور قومی ذمہ داری سمجھ کر اس میں شریک ہوں۔
پروگرام کے صدر حافظ محمد احمد چشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ S.I.R. مہم کا مقصد ملک میں انتخابی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ہم سب کا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت اور اپنی موجودگی کے ثبوت کو برقرار رکھیں ۔سابق چیئرمین نگر پالیکا فرقان احمد خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن کے اہلکاروں سے بھرپور تعاون کریں، اپنی تفصیلات درست کرائیں اور دوسروں کو بھی بیدار کریں۔
ورکشاپ میں اساتذہ، طلبہ، خواتین، سماجی کارکنان اور معزز شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔آخر میں تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ S.I.R. مہم کو گھر گھر پہنچائیں گے اور ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔
پروگرام میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO)، جمعیت علماء ہند اٹاوہ، انجمن فدائے رسول، صدیقی ہیلپنگ ہینڈز کمیٹی اور عبدالکلام ویلفیئر سوسائٹی کے کارکنان کا نمایاں کردار ادا کیا۔پروگرام کے آغاز پر محمد فارق اور سرتاج حسین صدیقی نے معزز مہمانوں کا استقبال گل دستہ پیش کر کے کیا۔جبکہ محمد عظیم، حسن راعین، اور عبدالمنان راعین و ان کی ٹیم کا تعاون قابل ذکر ہے۔ پریس ریلیز








