فکرو نظر: دانش اصلاحی
خودمختاری محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں، نہ ہی یہ صرف بین الاقوامی اداروں میں دہرایا جانے والا نعرہ ہے۔ یہ دراصل وہ بنیادی قدر ہے جس پر قوموں کی عزت، وقار اور اجتماعی تشخص قائم ہوتا ہے۔ جو ریاستیں اپنی خودمختاری کی حفاظت کرتی ہیں، وہ تاریخ میں احترام کے ساتھ یاد رکھی جاتی ہیں، اور جو اسے وقتی مفادات کے عوض کمزور کر دیتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ اپنے فیصلوں پر اختیار کھونے لگتی ہیں۔عصرِ حاضر کی عالمی سیاست میں یہ رجحان نمایاں ہوتا جا رہا ہے کہ بعض حکومتیں خودمختاری کو ایک عملی مفاہمت کے طور پر دیکھنے لگی ہیں۔ بڑے معاشی معاہدات، دفاعی تعاون اور طاقتور ممالک کی سرپرستی کو استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، مگر اس سوچ کا دوسرا رخ بھی ہے، جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ سوال آج بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے:
کیا دولت اور تحفظ، خودمختاری کا متبادل ہو سکتے ہیں؟دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے معاہدات سامنے آ رہے ہیں جن کی مالیت کھربوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔ ان میں اقتصادی تعاون، دفاعی شراکت داری اور اسٹریٹجک مفاہمت شامل ہوتی ہے۔ امریکہ اور قطر کے درمیان ہونے والے وسیع معاشی و دفاعی معاہدات اس طرزِ سیاست کی ایک مثال ضرور ہیں، مگر یہ معاملہ کسی ایک ریاست تک محدود نہیں۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے، جس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔
اصل سوال اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ معاہدات کی نوعیت اور ان کے سیاسی مضمرات کا ہے۔ جب ریاستیں اپنی سلامتی اور معیشت کو مکمل طور پر بیرونی قوتوں سے وابستہ کر لیتی ہیں تو ان کی فیصلہ سازی بتدریج محدود ہونے لگتی ہے۔ یہ عمل خاموشی سے ہوتا ہے، مگر اس کے نتائج گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔وہ ممالک جہاں غیر ملکی فوجی اڈے قائم ہوتے ہیں، بظاہر خود کو محفوظ محسوس کر سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی ان کی خودمختاری کا دائرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ صرف عسکری یا تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی وقار اور سیاسی خود ارادیت کا سوال ہے۔ ریاست کی سرزمین پر موجود بیرونی قوتیں بالآخر پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں۔
اسی طرح عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار بھی محتاط جائزے کا متقاضی ہے۔ سفارتی سرگرمیوں کی وسعت بسا اوقات ریاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت سمجھی جاتی ہے، مگر بعض اوقات یہ مختلف طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی مجبوری کا نتیجہ بھی ہوتی ہے۔ امریکہ اور قطر کے کردار کو اگر مثال کے طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ثالثی ہمیشہ مکمل آزادی کی علامت نہیں ہوتی۔ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات بارہا اس جانب توجہ دلاتے رہے ہیں کہ اقتصادی انحصار رفتہ رفتہ سیاسی دباؤ کو جنم دیتا ہے۔ جو ریاست اپنی معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی میں دوسروں پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے، وہ آزادانہ فیصلے کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں خودمختاری محض رسمی علامت بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ رجحان صرف ایک خطے یا چند ریاستوں تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ایک وسیع مسئلہ بن چکا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے وسائل اور اثر و رسوخ کو مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتی ہیں، جبکہ کمزور ریاستیں فوری استحکام کے حصول میں طویل المدت نتائج کو نظر انداز کر بیٹھتی ہیں۔یہاں اصل سوال حکمرانوں اور پالیسی سازوں سے ہے۔ کیا عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ قومی خودمختاری کو محدود کر دیا جائے؟ یا پھر یہ ممکن ہے کہ ریاستیں باوقار، متوازن اور خودمختار پالیسیوں کے ذریعے بھی عالمی برادری میں اپنا مقام برقرار رکھ سکیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور ریاستی اہلکار عالمی سیاست پر ہونے والے مالی، سفارتی اور اخلاقی اخراجات کا سنجیدہ جائزہ لیں۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ وقتی فوائد کے بجائے طویل المدت خودمختاری اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔کیونکہ دولت عارضی ہو سکتی ہے، مگر خودمختاری ایک مستقل قدر ہے۔ اگر یہ کمزور پڑ جائے تو قومیں تاریخ کے صفحات میں محض ایک مثال بن کر رہ جاتی ہیں۔اور یہی حقیقت ہر معاہدے، ہر اتحاد اور ہر عالمی فیصلے میں پیشِ نظر رہنی چاہیے۔خودمختاری کی قیمت کسی بھی معاشی فائدے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔










