گزشتہ چند ہفتوں سے ایران میں جاری مظاہروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے واضح بیانات نے یہ تاثر دیا کہ امریکہ ایک بار پھر “حکومت کی تبدیلی” کا آغاز کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو مسلسل پیغامات بھیجے، پھانسیوں کے خلاف “سخت اقدام” کا انتباہ دیا، اور اشارہ دیا کہ ایران کا موجودہ نظام زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ لیکن اب صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ایران کے حوالے سے اپنی توقعات اور جائزوں پر نظر ثانی کی ہے۔ امریکی صدر کو شاید اب احساس ہو گیا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی وینزویلا کی طرح آسان نہیں ہے۔
سب سے بڑا اشارہ بدھ کو ایک انٹرویو میں سامنے آیا، جہاں ٹرمپ نے عوامی طور پر ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلوی “ایک اچھے آدمی کی طرح لگتے ہیں ،” لیکن وہ نہیں جانتے کہ ایران میں ان کا کوئی حقیقی اثر و رسوخ ہے یا نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا بیان نہیں ہے۔ یہ واضح طور پر اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ اب تسلیم کرتا ہے کہ ایران کا مسئلہ صرف چہرے بدلنے سے حل نہیں ہوگا۔ مزید برآں، ٹرمپ نے “انتہائی اہم ذرائع” سے معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا کہ ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے کو روک دیا ہے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ “کوئی پھانسی نہیں ہوگی۔”
نکولس مادورو یقینی طور پر وینزویلا میں طاقت کا مرکز تھے، لیکن پورا نظام ان پر منحصر نہیں تھا۔ فوج، بیوروکریسی اور سیاسی ڈھانچے کے اندر گہری تقسیم تھی، جس کا امریکہ نے فائدہ اٹھایا۔ تاہم ایران میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں، آیت اللہ علی خامنہ ای محض طاقت کا چہرہ ہیں، پورے ڈھانچے کا نہیں۔ ایران کا حقیقی طاقت کا ڈھانچہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC)، اس کی اقتصادی شاخوں، مذہبی اداروں اور سیکورٹی نیٹ ورک کے درمیان تقسیم ہے۔ ایران انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر مہدی پرپانچی کے مطابق ایران میں اقتدار کوئی “واحد کرسی” نہیں ہے جس کے ہٹانے سے سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ خامنہ ای کے بعد بھی نظام خود کو دوبارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں حکومت، فوج اور نظریہ ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں کسی ایک رہنما کی برطرفی اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا باعث نہیں
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ہائبرڈ اور ملٹی لیئر نیٹ ورک امریکی حکمت عملیوں کے لیے ایک بڑی پریشانی ہے۔ جہاں وینزویلا کے حالات چند گھنٹوں میں بدل گئے وہیں ایران میں بھی یہی کوشش ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ایران صرف ایک ملک نہیں ہے بلکہ ایک علاقائی طاقت ہے جس کا اثر و رسوخ عراق، شام، لبنان اور یمن تک ہے۔ اگر امریکہ ایران میں براہ راست مداخلت کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ امریکی فوجی اڈوں اور امریکہ کو زمین فراہم کرنے والے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔









