**انسان کی حقیقی کام یابی قرآن کریم کے فہم وتدبر اور اس کی پیروی میں مضمر :پروفیسر مظہر آصف
**قرآنی تعلیمات کا عمل، اخلاص اور خیر رسانی ہے:پروفیسر اسلم پرویز
**قرآن ہمیں سائنسی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے:پروفیسر محمد مہتاب
عالم رضوی
نئی دہلی: 28جنوری (آرکے بیورو)
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز اور ولایت فاؤنڈیشن و شہید بہشتی یونیورسٹی طہران ایران کے اشتراک سے یہاں تیسرے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”قرآن اور سائنس“ کی افتتاحی تقریب
کا باوقار اور شاندار انعقاد ہوا ،اس موقع پر انصاری آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا تھا ،خاص طور سے طلبا وطالبات بڑی تعداد میں موجود تھے ـکئی گھنٹوں پر محیط تقریب میں کئی قومی و بین اقوامی مہمانان نے شرکت کی اور اپنے پر مغز خیالات سے سامعین کو مستفید کیا ،
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر آصف مظہر نے اپنے صدارتی خطاب میں موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”انسان کی حقیقی کام یابی قرآن کریم کے فہم، اسی کے تدبر اور اسی کی پیروی میں مضمر ہے۔المیہ یہ ہے کہ جو قرآن کبھی زندہ قوموں کی زندگی بدل دینے والی قوت تھا، جو اخلاق و کردار کی تعمیر اور گناہوں سے حفاظت کا حصار تھا، وہ اب محض مردوں پر پڑھنے کی ایک رسم بن کر رہ گیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن کو پھر سے زندگی کی شاہراہ بنائیں،اسے سمجھ کر پڑھیں، دل میں اتاریں، کردار میں سمیٹیں اور اسے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کی نبض بنالیں” مہمان خصوصی رجسٹرار جامعہ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، نے کہا کہ کہ قرآن کریم کی متعدد آیات ہمیں سائنسی حقائق کی طرف متوجہ کرتی ہیں —پانی کی تخلیق، کائنات کی وسعت، انسان کا مٹی سے وجود میں آنا، آسمانوں کے قائم ہونے کا نظام، اور دو سمندروں کے درمیان حائل وہ پردہ جس کے باعث ان کا پانی ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہوتا—یہ سب نشانیاں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ قرآن نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے، بلکہ وہ کائنات کے سائنسی اصولوں کی طرف بھی رہ نمائی کرتا ہے۔
پروفیسر اسلم پرویز،سابق شیخ الجامعہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے اپنے پراثر مدلل کلیدی خطبہ میں کہا کہ قرآن و سنت سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ محبت محض باتوں اور دعووں کا نام نہیں، بلکہ عمل سے ظاہر ہونے والی حقیقت ہے۔ اسی طرح قرآن اپنے ماننے والوں کو یہ اصول بھی دیتا ہے کہ ضرورت سے زائد کو راہِ خیر میں خرچ کیا جائے، تاکہ انسانیت نفع پائے اور معاشرہ متوازن ہو
۔پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈائریکٹر سمیناروصدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے بھی مختصر تقریر کی ـ مہمان اعزازی پروفیسر اخترالواسع نےنے اپنی گفتگو میں کہا کہ کہ یہ پروگرام ایسے وقت ہورہا ہے جب ایران کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ،ہم ایران کے ساتھ ہیں اور بھارت سرکار بھی ایران کے ساتھ ہے ـ انہوں نے کہا کہ قرآن کتاب ہدایت ہے ـ
سفیر ایران برائے ہند ڈاکٹر محمد فتح علی، نے کہا کہ قرآن کو اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا نہایت ضروری ہے، انہوں نے انسانی زندگی میں قرآن کی ضرورت اور اہمیت سے متعلق چند باتیں کہیں ـ
معروف شیعہ رہنما مولانا کلب جواد نے کہا کہ قرآن قیامت تک کے لیے ہے ،جس میں کائنات کے ہر موضوع پر گفتگو کی گئی ہے
پروفیسر سید شاہد علی،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا
مہمان اعزازی جمیلہ سادات علم الہدیٰ،ایران نے اپنی تقریر سے سامعین کو بے حد متاثر کیا کہا کہ نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا تعلق قرآن سے مضبوط کریں، کیوں کہ اسی میں ان کی فکری سلامتی اور عملی کام یابی کا راستہ پوشیدہ ہے۔
مہمان اعزازی پروفیسر عبدالماجد حکیم الٰہی،نمائندہ سپریم لیڈر،ایران نے کہاجدید دنیا کے پیچیدہ سائنسی اور سماجی چیلنجز ہمیں اس حقیقت تک لے آتے ہیں کہ قرآن کا مقصد انسان کے شعور کو بیدار کرنا اور اسے تخلیقِ کائنات کے اندرون میں پوشیدہ حکمتوں کے قریب لانا ہے۔
مہمان اعزازی انجینئر مصطفی عباس، کویت نے فرمایا کہ قرآن چاہتا ہے کہ ہمارے دل و دماغ ہمیشہ فکر، غور اور تدبر کی حالت میں رہیں، تاکہ ہم کائنات کے اسرار کو صحیح بنیادوں پر سمجھ سکیں۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر محمد منور کمال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نظامت جنید حارث،ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیزاور ڈاکٹر مہدی باقر نے انجام دی۔کلمات تشکر ڈاکٹر محمد مشتاق،ایسوسی ایسٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک نے ادا کیے








