ایرانی میڈیا نے تہران سمیت ملک کے کئی شہروں میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ کرمان شاہ، قم، لرستان، کرج اور تبریز ان شہروں میں شامل ہیں
خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔۔۔۔ تاہم یہ اطلاع ہیکہ سپریم لیڈر اپنے ہیڈکوارٹر میں نہیں ہیں۔ اسی دوران ایران نے اپنا ایر اسپیس بند کردیاہے۔ تہران کے ایرپورٹ پر بھی دھواں نظرآیا۔
ایک اور اطلاع کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے کئی میزائیل داغے۔تہران میں کئی مقامات پر دھماکوں کی آواز سنائی دی ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر مسعودپزیشکیان(Masoud Pezeshkian) کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوا کہ اس حملہ میں ایرانی صدر کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں
دریں اثنا صدر امریکہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے¬
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بار بار معاہدہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے واقعی کوشش کی۔‘انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے
اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی جوابی حملے کا اعلان کر دیا۔
اس حوالے سے ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، ردِعمل انتہائی سخت ہو گا۔ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب 7 میزائل گرے ہیں
تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی نہ کرے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں ہیں
خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل
ایک اہلکار نے رائٹر کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں نہیں ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ خامنہ ای کو حالیہ دنوں میں عوامی طور پر نہیں دیکھا گیا کیونکہ امریکہ کے ساتھ تناؤ بڑھ گیا ہے۔ لیکن یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب امریکہ نے خطے میں لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کا ایک وسیع بیڑہ جمع کیا ہے تاکہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا سکے۔
ایک امریکی اہلکار اور آپریشن سے واقف ایک شخص کے مطابق یہ اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے خلاف مشترکہ آپریشن ہے۔









