تہران: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا آج تیسرا دن ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر خامنہ ای کی موت کے بعد بھی ایران کے میزائل حملوں کی شدت کافی بڑھ گئی ہے ایران کی مسلح افواج کے جوابی حملے جاری ہیں جن میں اسرائیل سمیت تمام خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ملٹری واچ میگزین کو متعدد ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں نے بحرین اور قطر میں فضائی دفاعی ریڈاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا، جس کے بعد 28 فروری کو ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملے شروع ہوئے۔ بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کا مستقل اڈہ ہے مشرق وسطی قطر میں سب سے بڑی فوجی تنصیب، العدید ایئر بیس، کو اس MIM-104 پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کی صحیح پوزیشنوں کو بے نقاب کیا، اس سے پہلے کہ بعد میں وہاں کم از کم 16 KC-135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے اور متعدد RC-135 جاسوس طیاروں کی تعیناتی کی تصدیق کی
ادھر کویت کی وزارت دفاع نے آج صبح امریکا کے متعدد طیارے گرنے کی تصدیق کی وزارتِ دفاع کیجانب سے اپنے امریکی اتحادی کے طیارے گِرنے کی وجوہات کے حوالے سے تعاون کیا جا رہا ہے،اسہ کے ساتھ امریکہ کے ایک خطرناک جنگی طیارہ کے مار گرائے جانے کا اعتراف کیا
کویت میں امریکی سفارت خانے پر ایران کا حملہ:ایران اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے اسرائیل اور عرب ممالک میں امریکی اہداف پر میزائل حملے جاری ہیں۔ تازہ اپڈیٹ کے مطابق ایران نے کویت میں امریکی سفارت خانے کے احاطے کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں مختلف اہداف پر بمباری کی۔







