نئی دہلی آر کے بیورو
مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور خاموش طبع معروف عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایران ، امریکہ اسرائیل جنگ کے حوالہ سے بہت کھل کر ایران اور اس کے موقف کی حمایت کی ـ
انیوں نے اپنے ہفت روزہ کالم ‘شمع فروزاں میں ‘دشمنوں کی سازش کا شکار نہ ہوں’ کے عنوان سے لکھے مضمون میں یہ اپیل امت سے کی ہے ‘ مولانا نے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے کہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام ایک زبان اور ایک دل ہوکر ایران کے ساتھ کھڑی ہو اور پوری قوت سے اس کا ساتھ دے ، انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اس نازک موقع پر بھی شیعہ سنی کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں جو بہت ہی غیر مناسب اور قابل مذمت ہےـ مولانے لکھا "اس وقت ایران اورامریکہ واسرائیل کے درمیان خون ریز جنگ جاری ہے، یہی وجہ پوری طرح امریکہ اور اسرائیل کے ظلم وبربریت ،جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے”
مولانا رحمانی نے آگے لکھا "اس وقت ضرورت ہے کہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام ایک زبان اور ایک دل ہوکر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکہ واسرائیل کی مخالفت کریں؛مگر اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں اورعالم اسلام میں اختلاف بھڑکانے کیلئے شیعہ سنی لڑائی پیداکرنے اور اس کو بڑھانے کی کوشش کی ہے،
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر نے یہ ملک کر اپنے عرب دوستوں اور حلقہ احباب کی بھی پرواہ نہیں کی ، جبکہ ایک بڑا حلقہ ہندوستان میں اس معاملہ پر خاموش ہے یا پھر بہت محتاط ہے جبکہ ایک مذہبی طبقہ پوری قوت سے ایران کی مخالفت اور شیعہ سنی اختلافات کو بھڑکانے
جب لگا ہے ،مولانا نے اس صورتحال پر گرفت کرتے ہوئے اسی کالم میں لکھا "افسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دینی علوم سےآراستہ لوگ بھی اس سازش کا شکار ہیں ـ صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے دونوں گروہ اہل سنت اوراہل تشیع صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، بیشتر مسلم ممالک میں جہاں اہل سنت کی اکثریت ہے، وہیں ایک قابل لحاظ تعدادِ شیعہ حضرات کی بھی ہے "ہے
بورڈ کے صدر نے مزید کہا "کوئی سودوسوسال کی بات نہیں ہے؛بلکہ زمانۂ قدیم سے ہی دونوں طبقے فکرو نظرکے اختلاف کے باوجود ایک دُوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں” انہوں نے کہا "مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی صفوں کو متحد رکھیں، عقل مندی کا تقاضایہی ہے اورعہدصحابہ سے مسلمانوں کا یہی طریقہ رہاہے ،”آس سلسلہ میں انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہؓ کے اختلاف پر رومی بادشاہ کی پیشکش اور اور اس پر حضرت معاویہؓ کے جواب کو مثال کے طور پر پیش کیا
حساس معاملات عام طور پر خاموش رہنے والے مولانا رحمانی اتنا واضح اسٹینڈ لینےپر سراہا جارہا ہے ـ,دیکھنا ہے کہ بورڈ کے دیگر ارکان اسے کیسے لیتے ہیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مولانا نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا ،ہہ مضمون ابھی جاری ہے ہوسکتا ہے اگلی قسط میں اظہار خیال فرمائیں







