واشنگٹن: بھارتی ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کو امریکی عدالت سے فوری ریلیف نہیں مل سکا۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج نکولس گاراؤفس نے جمعہ کو مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے سے انکار کرتے ہوئے محکمہ انصاف (DOJ) کو ہدایت دی ہے کہ وہ واضح کرے کہ آخر وہ اس مقدمے کو واپس کیوں لینا چاہتا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی درخواست انتہائی مختصر، غیر واضح اور ناکافی ہے، جس کی بنیاد پر عدالت نہ تو کوئی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے اور نہ ہی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کا قانونی جائزہ لے سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عدالت نے فوری فیصلہ دینے سے گریز کیا۔
امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ مزید نہیں چلائے گا۔ اس کے بعد اڈانی کے وکلا نے 24 جون کو بروکلین کی وفاقی عدالت سے باضابطہ طور پر مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی، تاہم عدالت نے اس پر فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
گوتم اڈانی پر کیا الزامات ہیں؟
امریکی استغاثہ نے 2024 میں گوتم اڈانی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنی کمپنی Adani Group کی ذیلی کمپنی کے لیے بھارت میں ایک بڑے سولر پاور منصوبے کی منظوری حاصل کرنے کی خاطر سرکاری حکام کو مبینہ طور پر رشوت دینے کی سازش کی۔ مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس کے بعد امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کے انسدادِ بدعنوانی (Anti-Corruption) اقدامات سے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں تاکہ سرمایہ کاری متاثر نہ ہو۔









