ممبئی: اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت نے کیتن اگروال کیس میں سیا گوئل کے والدین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے لیے والدین کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے سیا گوئل کے والد کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں صرف کسی خاندان یا والدین کو دیکھ کر بچوں کی تربیت اور کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) نوجوانوں کی سوچ پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
سیا گوئل کے والد کے بیان پر کنگنا کا ردعمل
کنگنا رناوت نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک خبر شیئر کی، جس میں سیا گوئل کے والد کا بیان تھا: "اگر میری بیٹی نے کیتن کی جان لی ہے تو اسے بھی اسی قلعے سے نیچے پھینک دو۔” اس پر ردعمل دیتے ہوئے کنگنا نے لکھا کہ آج کے دور میں صرف گھر، خاندان یا والدین کو دیکھ کر بچوں کے "سنسکار” یا تربیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ بچوں کی "پروگرامنگ” کون کر رہا ہے، وہ کن لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور سوشل میڈیا، AI یا حقیقی زندگی میں کن اثرات کے زیرِ اثر ہیں۔

کنگنا نے مزید کہا کہ والدین کو اس طرح کے واقعات کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، کیونکہ آج کے معاشرے میں لوگ بیک وقت کئی طرح کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور اکثر اپنی ایک ایسی مثبت تصویر پیش کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں لوگوں کی توجہ اس بات پر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو کیسے نظر آتے ہیں، نہ کہ اس پر کہ وہ حقیقت میں کیا محسوس کرتے ہیں یا اصل میں کیسے انسان ہیں۔ اسی لیے بچوں کے کسی بھی مبینہ غلط عمل کی پوری ذمہ داری ان کے خاندان پر ڈالنا مناسب نہیں۔









