ایرانی سفارت کاری کا تجربہ کار چہرہ عباس عراقچی عام طور پر اپنے سنجیدہ اور متین انداز کے لیے معروف ہیں۔ وہ شاید ہی کبھی مسکراتے یا ہنستے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے پاس اس وقت ہنسی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا جب اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے ملک کو پہلے کبھی روس یا چین سے مدد ملی ۔
انقرہ سے "سی این این ترک” کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران عباس عراقچی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو روس اور چین سے فوجی مدد ملی ہے یا کیا آپ اب اسے حاصل کر رہے ہیں؟ اس پر وزیر نے حیرت اور ہنسی کے ساتھ جواب دیا کہ کیا آپ واقعی مجھ سے اس سوال کے جواب کی توقع کر رہی ہیں؟
ایران میں نظام کی تبدیلی ایک خواب
اس کے علاوہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز نشر ہونے والے اسی انٹرویو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے بارے میں جو کچھ بھی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ محض وہم اور خواب و خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی محض ایک تخیل ہے جس کا کچھ لوگ شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی نظام اتنا مستحکم ہے اور اس کی بنیادیں اتنی مضبوط ہیں کہ افراد کی موجودگی یا غیر موجودگی سے اس نظام کو کوئی فرق نہیں پڑتا
بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ عرصے میں امریکی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے لیے کئی آپشنز سامنے رکھے ہیں جن میں سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنا کر نظام کو کمزور کرنا اور یہاں تک کہ اسے گرانا بھی شامل ہے۔ یہ بیانات تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ امریکہ نے ایک سے زیادہ بار فوجی آپشن کی دھمکی دی ہے اور خطے میں مزید بحری جہاز اور تباہ کن بیڑے جمع کر لیے ہیں۔








