جمعیۃ علماء ہند کے کل ہند صدر مولانا ارشد مدنی نے ہرسکوت سمندر میں جرآت مندانہ بیان کا پتھر پھینک کر ارتعاش پیدا کردیا ـ انہوں نے ممدانی کی نیویارک میں جیت سے لے کر اعظم خاں اور جواد صدیقی کی گرفتاری پر کچھ دوٹوک باتیں کہہ دیں در اصل وہ مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت کے زیر اہتمام مفتی کفایت اللہ پر دوروزہ سمینار کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے
الفلاح یونیورسٹی کے تنازعہ اور ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں کسی مسلمان کے لیے وائس چانسلر بننا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا بھی ہے تو اسے سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کی طرح جیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
مولانا مدنی دہلی میں جمعیت کے بانیوں میں سے ایک مفتی کفایت اللہ دہلوی کی زندگی اور میراث پر سیمینار سے خطاب میں الفلاح یونیورسٹی اور اس کے آنر سے متعلق حالیہ تنازعہ کا ذکر کیا اور سنگین الزام لگاتے ہویے کہا کہ یہ نظام مسلمانوں کو ترقی نہیں کرنے دیتا۔مولانا مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "الفلاح یونیورسٹی کا مالک جیل میں ہے، کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب تک وہاں رہے گا، یہ کیسا انصاف کا نظام ہے جو کیس مکمل ثابت نہ ہونے پر بھی کسی کو جیل میں رکھتا ہےـ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی مسلمانوں کو تعلیم، قیادت اور انتظامی ڈھانچے میں آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔
عالمی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمان پوری دنیا میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج ممدانی جیسا مسلمان نیویارک کا میئر بن سکتا ہے، صادق خان لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن یہ ہندوستان میں کوئی مسلمان کسی یونیورسٹی کا وی سی نہیں بن سکتا، اور اگر ایسا ہوا تو وہ اعظم خان کی طرح جیل جائے گا‘‘۔ ان کے اس بیان کو الفلاح یونیورسٹی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں حال ہی میں گرفتاری وقانونی کارروائیاں ہوئی ہیں۔
‘حکومتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان سر نہ اٹھاسکیں ‘ – مولانا مدنی کا الزام
مولانا مدنی نے کہا، "آزادی کے بعد سے ہی حکومتیں مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ زمین کو مسلمانوں سے چھیننا چاہتی ہیں، اور کافی حد تک، وہ ہیں۔ آج مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں قیادت کی کمی کا الزام غلط ہے۔ اگر مسلمان دنیا کے بڑے شہروں میں میئر بن سکتے ہیں بھارت۔ میں کیوں نہیں دراصل قیادت کو ابھرنے نہیں دیا جارہا ہے









