گوہاٹی:آسام میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ایک بار پھر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ امیگریشن اینڈ فارنرز ایکسپشن آرڈر، 2025 نے اس تنازعہ کو مزید ہوا دی ہے۔ اس حکم کے تحت 31 دسمبر 2024 تک ہندوستان میں داخل ہونے والے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے غیر مسلموں کو بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس نئے حکم کے بعد آسام میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (اے اے ایس یو) نے نئے حکم کے ساتھ ساتھ سی اے اے کے خلاف ستیہ گرہ کا اعلان کیا ہے اور جمعرات کو مختلف اضلاع میں 11 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کے ساتھ اس کی شروعات کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام میں اس نئے حکم کو ریاست کی ثقافتی اور آبادیاتی شناخت کے لیے ایک خطرہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ احتجاج آسام میں کیوں ہو رہا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے آسام میں پیش آنے والے اس سے پہلے کے واقعات کو سمجھنا ضروری ہے۔ آسام تحریک 1979 سے 1985 تک چلی۔ اس تحریک نے بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک مضبوط عوامی رائے پیدا کی۔ اس تحریک کے نتیجے میں 1985 میں آسام معاہدہ ہوا۔ اس میں بنگلہ دیش کی جنگ کے وقت کی بنیاد پر 24 مارچ 1971 کو کٹ آف ڈیٹ کے طور پر طے کیا گیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس تاریخ کے بعد ہندوستان میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص غیر ملکی تصور کیا جائے گا، چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔ لیکن CAA نے سب کچھ بدل دیا۔ سی سی اے 2019 میں نافذ ہوا۔ اس نے اس کٹ آف کو 31 دسمبر 2014 میں تبدیل کر دیا اور افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن (ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی) کو شہریت فراہم کی۔ آسام میں 2019 میں اس قانون کے خلاف زبردست احتجاج ہوا تھا۔ اس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ یہ نئی شق سی اے اے کی اصل خرڈیڈ لائن یعنی 31 دسمبر 2014 کو تبدیل نہیں کرتی ہے، لیکن اس سے آسام کے لوگوں میں خوف پیدا ہوا ہے کہ اس سے مزید تارکین وطن کو ریاست میں آباد ہونے کا موقع ملے گا۔
نئے حکم کے خلاف احتجاج کیوں؟
امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے رواں ہفتے جاری کردہ حکم میں یہ نرمی دی گئی ہے۔ اس حکم کے مطابق 31 دسمبر 2024 تک ہندوستان میں داخل ہونے والے غیر مسلم تارکین وطن کو بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے رہنے کی اجازت ہوگی۔
آل آسام اسٹوڈنٹس یونین یعنی AASU 1985 کے آسام معاہدے پر دستخط کرنے والا تھا۔ اس نے اس حکم کی سخت مذمت کی ہے۔ AASU کے چیف ایڈوائزر سموجل بھٹاچاریہ نے کہا، ‘ہم آسام میں مزید غیر ملکیوں کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔ آسام معاہدہ ہماری شناخت کی بنیاد ہے، اور مرکزی حکومت کا یہ اقدام اسے کمزور کرتا ہے۔’
اے اے ایس یو نے انتباہ دیا ہے کہ اگر یہ حکم واپس نہیں لیا گیا تو ریاست میں زبردست احتجاج کیا جائے گا۔ کانگریس اور آسام جاتیہ پریشد جیسی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس حکم کی تنقید کی ہے۔








