اردو
हिन्दी
اپریل 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اعلان بالفور یہودی ریاست کے لیے نہیں، صرف یہودیوں سے ہمدردی کے لیے تھا: روڈرک بالفور نے اور کئی انکشاف کیے

6 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Roderick Balfour’s revelations about the Balfour Declaration
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے مشہور بالفور خاندان سے تعلق رکھنے والے ہاؤس آف لارڈز کے رکن اور سابق وزیر خارجہ آرتھر بالفور کے پڑ بھتیجے روڈرک بالفور نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانیہ کا اصل مقصد اسرائیل کی صورت میں ایک یہودی ریاست کی تخلیق کرنا نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی ایسا وعدہ کیا گیا تھا۔ بلکہ یہودیوں کے ساتھ محض اظہار ہمدردی مقصود تھا۔ انہوں نے یہ انٹرویو ‘العربیہ’ کو دیا ہے۔
یاد رہے آرتھر بالفور جن سے منسوب ہے کہ انہوں نے 1917 میں بالفور ڈکلیریشن یہودیوں کی فلسطین میں ریاست قائم کرنے کے لیے بنیادی خاکے کے طور پر پیش کیا تھا۔ جس کی بنیاد پر اگلے اٹھائیس برسوں میں فلسطین میں اس وقت کی عالمی طاقتوں کی مدد سے اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ تاہم اس خاندان سے تعلق رکھنے والے لارڈ روڈرک بالفور نے ہٹ کر بات کی ہے کہ مقصد اسرائیلی ریاست قائم کرکے دینا نہیں تھا بلکہ یہودیوں سے صرف اظہار ہمدردی تھا۔ان کے مطابق اعلان بالفور کو اس کے اصل متن کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے نہ کہ اس کی بعد ازاں کی گئی تشریحات اور تاویلات سے سمجھنے کی کوشش کی جائےبالفور نے کہا یہ ڈکلیئریشن میرے ہاتھ میں ہے میں ہمیشہ سے اسے درست انداز سے سامنے لانا چاہتا ہوں۔‘العربیہ’ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا عزت مآب بادشاہ کی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے حق میں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسرائیلی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کریں گے لیکن اس وقت فلسطین کے حق میں دباؤ کی کیفیت ہے، اس کے تحت محض ہمدردی کا اعلان ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے یہ سب خواہش ہے۔بالفور نے کہا عام طور پر بھول جانے والی اسرائیل کے حالات میں مجھے اکثر پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے۔
یہ بات واضح طور پر سمجھی جاتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں کہا کریں گے جس سے فلسطین میں غیر یہودیوں کے حقوق متاثر ہوں۔ اس لیے جو کچھ آج اسرائیل میں ہو رہا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اس زمانے کی برطانوی حکومت نے چاہا ہوگا۔


ان کا کہنا تھا میرا بالفور خاندان سے تعلق ہے جو میرے نام کا بھی حصہ ہے مگر بالفور ڈکلیئریشن کا میری پرورش میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
روڈرک بالفور نے کہا یہ جو بالفور ڈکلیئریشن آپ نے ہمارے گھر کے بیت الخلاء کے دروازے پیچھے لٹکا ہوا دیکھ ہے۔ آپ نے اسے پڑھا ہوگا۔ اس کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کرتا۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا ، یہ پچاس ، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بات ہے۔ ان برسوں میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں تھا۔
البتہ مجھے اس اعلامیے کے حوالے سے پہلی بار اس وقت سامنا کرنا پڑا جب پیرس میں تھا اور اسرائیل اور عربوں کی 1967 کی چھ روز جنگ چھڑ گئی۔
آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت سبھی لوگ اسرائیل کے حامی تھے۔ مگر آج جو صورت حال ہے، تعجب انگیز حد تک اس وقت سے مختلف ہے۔اس اہم تاریخی دستاویز کی وجہ سے انہیں اس کی ذمہ داری لینا پڑتی ہے، فخر ہوتا ہے ایک تنازعے میں الجھنا پڑتا ہے۔ روڈرک بالفور نے کہا، جو چیز حقیقت میں لکھی گئی ہو وہ تو میرے لیے باعث فخر ہے۔ کیونکہ اس میں ہمیں اپنے عظیم چچا کے نام بالفور کا ذکر ملتا ہے۔ کہ انہوں نے بطور وزیر خارجہ برطانیہ ایسا کیا تھا۔ درحقیقت بالفور ایک فلسفی تھے۔ وہ ایک انسان دوست شخصیت تھے۔ ان کا کابینہ بھی کافی اثر رسوخ تھا۔
اس لیے بالفور خاندان سے تعلق کی وجہ سے مانتا ہوں کہ اس کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے۔ اس لیے میں نے اس انٹرویو کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ کیونکہ اس سے مجھے اعلان بالفور کا دفاع کرنے کا موقع بھی ملا ہے اور یہ بھی کہنے کا موقع ملا ہے کہ یہ اعلان بالفور درحقیقت کیا کہتا ہے۔اس سوال پر کہ ایک فریق کی اعلان بالفور میں ہمدردی و حمایت اور دوسرے یعنی فلسطینیوں کی کیوں نہیں۔ اس سوال پر آرتھر بالفور کے خاندان کے اس چشم و چراغ نے کہا’ 1917 میں تو فلسطینی ایک مظلوم قوم نہیں تھے۔ نہ ان پر اس وقت کوئی ظلم و ستم جاری تھا۔ ان کا کوئی اس دور میں تعاقب بھی نہیں کر رہا تھا۔ وہ بڑے سکون سے زراعت کی بنیاد پر زندگی گذار رہے تھے اور بھیڑ بکریاں چراتے تھے۔ اس لیے یہی خیال تھا کہ کچھ یہودی بھی جا کر امن سے وہاں رہ لیں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو جائے گا۔برطانیہ کی طرف سے اب اتنا عرصہ بعد تسلیم کیے جانے پر بالفور نے کہا یہ محض ایک علامتی پیش رفت ہے۔ مگر پھر بھی کافی اہم واقعہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم دوریاستی حل کے حامی ہیں۔
لیکن اسرائیل ایسا سوچتا ہے نہ حماس۔ حماس اسرائیل سے نجات چاہتا ہے۔ جبکہ اسرائیل کسی بھی عرب پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہوں گا کہ کسی بامعنی چیز کے ہونے تک بہت سے واقعات کے ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔

دو ریاستی حل کے آج بھی قابل عمل ہونے کے بارے میں سوال پر انہوں نے اسرائیلی نکتہ نظر سے جواب کا آغاز کیا اور کہا اسرائیلی تو واضح طور پر ایسا نہیں سوچتے۔ مجھے نہیں لگتا حماس والے بھی ایسا سوچتے ہیں۔
کیونکہ حماس کو اسرائیل سے آزادی چاہیے اور اسرائیل کو کسی بھی عرب ملک پر اعتماد نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے میرے خیال میں بڑی طاقتوں کے ذریعے پائیدار علاقائی تعاون کی بنیاد پر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مذہبی رجحانات پر تجارت نے غلبہ پالیا ہے۔ سب امن کے بہت بہت خواہش مند ہیں۔ اس لیے امن ضروری ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ فلسطینیوں اور یہودیوں نے کبھی شاندار معیشت کھڑی نہیں کی ہے۔

ٹیگ: Balfour DeclarationBritainhistoryIsraelJewish StatePalestinerevelationsRoderick Balfour

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Humayun Kabir Owaisi Video Row
خبریں

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

10 اپریل
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ
خبریں

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

10 اپریل
UGC Vande Mataram News
خبریں

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

10 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

مارچ 31, 2026
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

مارچ 31, 2026

حالیہ خبریں

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN