اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگلہ دیش تشدد: جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، اس کومہذب کیسے کہا جا سکتا ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
بنگلہ دیش تشدد: جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، اس کومہذب کیسے کہا جا سکتا ہے؟
44
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: | اپوروانند

بنگلہ دیش میں ہندوؤں پرمسلسل حملے۔حکومت کے سخت موقف کے باوجود دنگائیوں پر گولی چلانے کے بعد بھی حملے پھیل گئے۔ عوامی لیگ کی سرکار کےوزیروں اور وزیر اعظم نےباربار کہاکہ مجرموں کو کھوج نکالا جائےگا اور کڑی سزا دی جائےگی۔ لیکن تشددبندنہیں ہوا۔تشدد کے لیےبنگلہ دیش کی جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم کے علاوہ خلافت تحریک کےایک دھڑے اور بنگلہ دیش کی اہم اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور دوسری‘اسلامی’تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ یہ تشدد پوری طرح سے منصوبہ بندسازش کے تحت کیا گیا اور ارادہ ملک کے امن اور اس کے سماجی تانےبانے کومجروح کرنے کا ہے۔

ادھر بی این پی نے حکمراں جماعت پر ہی الزام لگایا کہ آئندہ انتخاب میں عوام کی توجہ اس کی آمریت سے بھٹکانے کے لیے اسی نے اس تشدد کوبھڑکایا ہے یا ہونے دیاہے۔بنگلہ دیش دوسرا ملک ہے لیکن وہاں بھی اس تشدد کو فرقہ وارانہ تشدد کہا جا رہا ہے۔ وہاں بھی اخبار اور انسانی حقوق کے کارکن اور طلبا اور اساتذہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر اس ملک میں اقلیتوں پر اس طرح کا ظلم کب تک جاری رہےگا۔

’ڈھاکہ ٹربیون‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا‘یہ سب کچھ طویل عرصے سے جاری ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کو قابو کرنے میں ہم نے کتنی ہی کامیابی کیوں نہ حاصل کی ہو، یہ بدشکل تشدد باربار، سال در سال سر اٹھا ہی لیتا ہے۔’اس طرح کے تشدد کے لیے ہر بار کوئی ایک وجہ دی جاتی ہے، جس سے آپ تشدد سے زیادہ وجہ پر چرچہ کرنے لگیں اور تشددجائز نہیں تو اس وجہ کی ایک فطری ردعمل جان پڑنے لگے اور اس طرح اس کی ذمہ داری تشدد کو منظم کرنے والوں اور اس میں شامل لوگوں کے ساتھ، یا ان سے زیادہ اس وجہ کی وجہ پر بھی ڈال دی جا سکے۔ سو، اس بار تشدد کا اکساوا بتلایا جا رہا ہے کو ملا میں ایک پوجا کے پنڈال میں مقدس قرآن کا رکھ دیا جانا۔ اس کی خبر پھیلنے میں دیر نہیں لگی اورتشدد بھڑکنےمیں اس سے بھی کم دیر۔

پھرسوشل میڈیا پر خانہ کعبہ کی توہین کرنے والے کسی نوجوان کے مبینہ تبصرے کے بہانے ایک دوسری جگہ، رنگ پور میں تشددبرپاہوا۔ ایک کے بعد ایک شہروں اور علاقوں میں یہ تشدد کیا گیا۔ پوجا کے پنڈال توڑ دیے گئے، مجسموں کو توڑا گیا، گھروں اور دکانوں میں آگ زنی کی گئی، ہندوؤں پر حملہ کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ہر جگہ تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے، پولیس کے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ہندوؤں پر تشدد کرنے والوں میں کچھ مارے بھی گئے ہیں۔پولیس نے ہزاروں دنگائیوں کے خلاف رپورٹ درج کی ہے اور کئی کو گرفتار کیا ہے۔لیکن اب تک ہندوؤں کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔ پوچھا جا رہا ہے کہ جب اس کا خدشہ تھا تو پہلے ہی اسے روکنے کے لیے سرکار نے قدم کیوں نہیں اٹھائے۔

بنگلہ دیش میں کوئی پہلی باراقلیتوں میں سے کسی ایک کمیونٹی پرتشدد ہوا ہو،ایسا نہیں۔ہندوؤں، بودھوں، عیسائیوں کے خلاف الگ الگ وقت پرتشدد ہوتا رہا ہے۔بنگلہ دیش کےبننے کےوقت جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ اب تک خواب ہی رہا۔ وہ یہ کہ ایک زبان پر مبنی سیکولرملک بناہے۔ یہ تجربہ شروع سے ہی مشکل میں ہے۔ بننےکے 4 سال کے اندر ہی اس آئیڈیالوجی پر بڑا حملہ کیا گیا جب بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا تختہ پلٹ دیا گیا اور ان کو، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں وہ عناصر جو اس طرح کے ملک کےآئیڈیا کے خلاف تھے دھیرے دھیرے مضبوط ہوتے چلے گئے۔

سچ تو یہ بھی ہے کہ اس ملک کی پیدائش میں رول نبھانے والے ہندوستان میں بنگلہ دیش کے بننے کو لےکر جو جشن تھا، وہ ایک سیکولر ملک کے بننے کا جتنا نہ تھا، اتنا پاکستان کو توڑ دینے کا تھا۔ یہ بےایمانی بعد میں ڈھٹائی سے بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے میں بدل گئی۔بنگلہ دیش بھی بنگلہ بھاشی لیکن مسلمان ملک ہی بنتا چلا گیا جس میں باقی اقلیت اکثریتی مسلمانوں کی مہربانی پر رہیں۔ابھی جب یہ سطور لکھے جا رہے ہیں، ڈھاکہ میں طلباہندوؤں پر حملوں کے خلاف سڑک پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔آئندہ 23 اکتوبر سے ہندو بودھ عیسائی یونٹی کاؤنسل نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ نے اس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بنگلہ دیش کےقیام کی گولڈن جوبلی کاسال ہے۔ صرف 50سال میں ایک بڑے عزم کوفرقہ وارانہ ذہنیت نے ہرا دیا ہے، ایساخوف محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیلنج بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ اس ہارکو قبول کر لیں گے یا اپنی کمزوریوں کو پہچان کر 1971 میں شروع کیے گئے جرأت مندسفرکے راہوں کی رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔بنگلہ دیش کا استعمال ہندوستان کے لیےیہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس تشدد کے مناظر دکھلاکر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کواور بھڑکایا جائے۔مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

تاریخی اور جغرافیائی وجوہات سے ایک ملک میں جو کچھ ہوگا اس کا اثر دوسرے پر پڑتا رہا ہے اسی لیے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نےحکومت ہند کو کہا ہے کہ وہ اپنے یہاں فرقہ وارانہ عناصر پر لگام لگائے۔ لیکن جس سرکار کا وزیر داخلہ اورباقی وزیربنگلہ دیشیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی زبان کے علاوہ کچھ نہ جانتے ہوں، اس سے یہ امید کچھ زیادہ ہے۔پھر بھی، ہمیں دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم بنگلہ دیش کے ہندوؤں کی مدد اسی طرح کر سکتے ہیں کہ اپنے ملک میں اقلیت،بالخصوص مسلمان اور عیسائی مخالف تشدد کو قابو کریں۔

بنگلہ دیش میں تشدد کے اس نئے چکر سے شاید ہم ایک جنوب ایشیائی پہل کے بارے میں سوچ سکیں جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی برابری کے حق کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل کرے۔ جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، وہ مہذب ہی کیسے کہلا سکتا ہے؟ خود کو قاضی نذرالاسلام کا ملک کہنے والا ملک کیا ان کے لائق بھی رہ گیا ہے؟

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN