نئی دہلی: (خاص خبر :آر کے بیورو)
ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے غیر متنازع مشترکہ پلیٹ فارم مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیر قیادت وقف تحریک جنوبی ہند میں پورے انہماک اور زورشورسے جاری ہے جبکہ شمالی ہند خاص طور سے یوپی، بہار میں اس کی موجودگی کم وبیش صفر ہے بہار میں ایک بڑے دھرنے کے بعد سے بورڈ نے چھٹی لے لی ہےـ۔امارت شرعیہ یہ کمی پوراکرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن یوپی میں تو اس کے سفر کا آغاز ہی نہیں ہوا ہے ـ,بورڈ تاحال یوپی میں ایک بھی پروگرام نہیں کرسکا ہے اس کا عذر یہ ہے کہ یوپی میں بہت سختیاں ہیں اور وہ یوپی کے مسلمانوں کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا ـ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یوپی میں کسی مسلم تنظیم یا این جی او نے کبھی بورڈ سے نہیں کہا کہ وہ یوپی میں کوئی پروگرام نہ کرے ۔یوپی ہمیشہ قربانی میں آگے رہا ہے اور کوئی بھی تحریک بغیر یوپی کی شرکت کے کامیاب نہیں ہوئی ہے ،بورڈ کی نیت پر شبہ کرنے یا اس پر انگلی اٹھانے کی بات نہیں ہے یہ تو کھلے عام نظر آرہا ہے کہ بورڈ کی قیادت خود یوپی میں قدم رکھنے سے حد درجہ احتیاط برت رہی ہے – یہ بھی سچ ہے بورڈ کی معزز اعلی قیادت لگاتار ہر قربانی دینے کی بات کررہی ہے تاکہ بہت صورت وقف کو بچایا جاسکے ،ـ اب یہ حسرت یا خواہش ‘دوست ریاستوں’ میں تو پوری نہیں ہوسکتی ہاں یوپی کی زمین اس کے لیے بہت زرخیز ہے وہ ان کی مجوزہ قربانیاں قبول کرنے کی منتظر ہے ـ یہاں ‘سنت یوسفی’ ادا کرنے کابھی بھرپور موقع مل سکتا ہے اور ‘علمی اعتکاف ‘ بھی کیا جاسکتا ہے ،اس بہانے کوئی معرکتہ الآرا کتاب بھی پوری ہوسکتی ہے جس کے لیے کبھی بیرون ملک تو کبھی کشمیر کی وادیوں کا بالجبر سہارا لینا پڑتا ہے خیرـ
بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف تحریک کے لیے یوپی میں بورڈ کے کنوینر معروف مذہبی رہنما حضرت مولانا خالد رشید فرنگی محلی دامت برکاتہم بار بار تاکید کے باوجود کوئی پروگرام ترتیب دینے میں ناکام رہے ہیں ,جس کی وجہ وہ اور بورڈ لگاتار تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں ،ان کے قریبی اور باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حضرت والا مولانا فرنگی محلی مدظلہ العالی نے اترپردیش میں پروگرام کرانے سے صاف معذرت کرلی ہے وہ یوگی سرکار کے مزاج آشنا ہیں ـ
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے مولانا فرنگی محلی کو وقف تحریک کے کنوینر کی ذمہ داری سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے ـ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول نے نئی دہلی میں ایک پروگرام کے دوران روزنامہ خبریں کے یوپی میں بورڈ کی سرگرمی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ یوپی میں پروگرام نہ ہونے کی وجہ بورڈ سے مسلسل سوال کیا جارہا ہے ،واف تحریک کے یوپی کے کنوینر مولانا فرنگی محلی کوئی ریسپانس نہیں دے رہے ہیں ،انہوں نے اشارہ دیا کہ یوپی میں بورڈ کی سرگرمی شروع کرنے کے لیے کنوینر کو بدلا بھی جاسکتا ہے ـ انہوں نے اس کا کوئی وقت نہیں بتایا لیکن یہ ضرور کہا کہ لوگوں میں احساس ہے کہ یوپی میں ذمہ داری کام کرنے والے ہاتھوں کو دی جائے ـ,گرچہ بہت دیر ہوچکی ہے عدالت کا فیصلہ کسی بھی دن آسکتا ہےـ بلاشبہ بورڈ نے بہت وقت گنوادیا ہے ـ21جولائی سے پارلیمنٹ شروع ہوگی،اپوزیشن کی ترجیحات میں اب وقف نہیں رہا ہے کیوںکہ بہار میں الیکشن ہونے والے ہیں اور پھر بنگال میں ،ہم کوئی بیانیہ سیٹ کرنے میں ناکام رہے ہیں ـ بورڈ نے رام لیلا گراؤنڈ دہلی میں جولائی کی مجوزہ ریلی بھی برسات کا عذر رکھ کر کئی مہینوں کے لیے ٹال دی ،بس اللہ خیر کا معاملہ کرے اب انتظار کرنا ہوگا کہ بورڈ یوپی میں کس کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے ،امید کی جارہی ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے اس سلسلہ میں بورڈ کوئی ایکشن لے گا تاکہ یوپی میں بھی بورڈ کی موجودگی نظر آئے ـ







