نئی دہلی 3فروری (آر کے بیورو)
ہندوستانی مسلمانوں کے اکلوتے,باوقار مشترکہ پلیٹ فارم مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذرائع سے ایک بڑی خبر سامنے آرہی ہے ،اس سے پتہ چلتا ہے بورڈ کی اعلی قیادت اندرونی سطح پر مختلف قسم کے اندیشوں کے ساتھ تذبذب میں مبتلا ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ چوطرفہ دباؤ اور مسائل کے بوجھ تلے کیا ترجیحات ہوں اور مسلم کمیونٹی سے کس بنیاد پر مزید قربانی کا مطالبہ کرے ـ
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوقاف تحریک کے تحت جن اقدامات کا اعلان کیا تھا ان میں سے کئی پوری تیاری نہ ہونے کی بنا پر ملتوی کیے جاتے رہے ،جس سے اضطراب پیدا ہوا، مثلاً گرفتاریاں دینے کا اعلان تھا جس نے نچلی سطح تک کمیونٹی کو جوش وخروش سے بھردیا تھا کہ آخر لیڈرشپ قربانی دینے کے لیے آگے آئی ـ مگر اسے بعد ازاں ٹال دیا گیا ،التوا کو کافی وقت گزر گیاـ کوئی اعلان اس بابت تاحال نہیں کیا گیا ہے ـ لگتا یہی ہے بورڈ کی معزز قیادت نے جو وقف کی خاطر سرکٹانے کی بات آن ریکارڈ کررہی تھی،خاموشی اختیار کرلی ہے ،یعنی صرف قائدین کی گرفتاری دینے کا فیصلہ اب روڈ میپ پر نہیں ہے ، ویسے بھی ماہ شعبان چل رہا ہے ،پھر رمضان ہیں چنانچہ اس عرصہ کے دوران ایسا کوئی ‘مجاہدہ’ خارج ازامکان ہےـ بورڈ کے نزدیکی ذرائع کہناہے کہ اب کوئی گرفتاری نہیں دی جائے گی ـ
اگلی خبر تو اس سے بھی بڑی ہے اور وہ یہ ہے کہ بورڈ نے بڑے عزم کے ساتھ دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں اوقاف بچاؤ احتجاجی ریلی کا اعلان کیا تھا ،پہلے یہ بہار الیکشن کے آس پاس ہونے والی تھی پھر اسے عید بعد تک ملتوی کردیا گیا تھاـ اب خبر آرہی ہے کہ حالات کے جبر اور حکومت کے تیور و عدلیہ کے مزاج کوہڑھ کر مجوزہ ریلی کے انعقاد سے ہاتھ کھڑے کرلیے ہیں ـ ایک اور وجہ بورڈ میں شریک بعض بڑی جماعتوں کے تحفظات اور سرد رویہ بھی ہے ہیں ،بورڈ کے کچھ پروگراموں میں ان کی عدم شرکت یا نیم دلی سے شرکت نے بورڈ کی قیادت کا دل اور ہمت کو توڑ دیا ہے ـ کیونکہ بورڈ کے نہ اپنے وسائل ہیں اور نہ ہی افرادی قوت وہ رکن جماعتوں کی مدد سے چلتا ہے ،اکیلے اس کے بس کا نہیں کہ وہ ریلی تو بہت دور کی بات ہے کوئی دھرنا بھی آرگنائز کرلے ـ
فی الحال بورڈ کے کرتا دھرتا ریلی پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں ـلیکن یہ تقریباً طے ہے کہ ریلی بھی نہیں ہوگی ـ مگر کیوں نہیں ہوگی؟ اس کا جواب بھی ہے ـ دراصل سپریم کورٹ نے جب امید پورٹل معاملہ میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے آخری وقت میں کی گئی بورڈ کی درخواست کو مسترد کردیا اور نہ ہی سرکار نے ایک سال کی مدت بڑھانے کی بورڈ کے وفد کی اپیل پر غور کیا تو بورڈ کی سمجھ میں آگیا کہ وقف تحریک کوئی دباؤ بنانے میں ناکام ہوگئی ہے وہیں امید پورٹل کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ بورڈ کی قیادت نے ایکٹ کے ایک حصہ کو مان لیا جبکہ وہ سوفیصد مسترد کے موقف کو پیش کررہی تھی ـ ایکٹ کے ایشو پر کرن رجیجو سے ملاقات نے اس کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کردیا ،اس ‘اجتہادی غلطی’ نے بورڈ کو کمزور زمین پر لاکھڑا کیا ہے،سوال یہ پیدا ہوگیا کہ اب وہ مسلم عوام کے سامنے کیا اسٹینڈرکھے؟ اس لیے کہ کرن رجیجو سے ملاقات میں بورڈ کی ہوشمند,فعال لیڈر شپ نے وقف ایکٹ کو ریجیکٹ کرنے کی بات ہی نہیں کی ،وہیں دور دور تک ریلی کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی ہے اس بابت بورڈ نے چپ سادھ لی ہے
سنا ہے اب اس شخص کو تلاش کیا جارہا ہے جس نے بورڈ کے جنرل سکریٹری مجددی صاحب کو مرکزی وزیر سے اس چھوٹے سے ایشو پر ملاقات کرنے اور ممبر پارلیمنٹ چندرشیکھر راون کو وفد کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا تھا







