نئی دہلی:(آر کے بیورو)
بہار میں انتخابات کا سال ہے اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اقلیتی کمیونٹی سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مسلم مذہبی تنظیموں نے نتیش کی افطار پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وقف ترمیمی بل کی جے ڈی یو کی حمایت سے مسلم تنظیمیں بہت ناراض ہیں اور پہلی بار انہوں نے نتیش کی افطار پارٹی سے خود کو دور کر لیا ہے۔ یہ افطار پارٹی اتوار کو پٹنہ میں ہونے جا رہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اس بات کا بھی چرچا ہے کہ دراصل مسلم جماعتوں نے داؤ کھیل تو دیا ہے مگر ان کو یقین نہیں کہ بائیکاٹ کی اپیل کا کتنا اثر ہوگا ، حالانکہ اپیل کنندگان میں سب بااثر جماعتیں شامل ہیں ـ یہ کال دے کر مسلم جماعتوں نے اپنی بند مٹھی کھول دی ہے اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کال کی آواز کہاں تک پہنچتی ہے اور یہ بھی کہ اوقاف کے ہمدرد کون ہیں اور نتیش کے وفادار کون ہیں ،یہ ان مسلم لیڈروں کے لیے بھی لکشمن ریکھا ہے جو اپنے رہنماؤں کی وفاداری میں تمام حدیں پھلانگ دیتے ہیں ـگرچہ بائیکاٹ کرنے والے خود ایسی افطار پارٹیوں میں اکثر آگے کی صفوں میں بیٹھے نظر آئے ہیں خواہ وہ کوئی مسلم جماعت ہو مگر اب بورڈ کی آواز کا ساتھ دینا ان کی ضرورت اور مجبوری دونوں ہیں ـ نتیش خاموش نہیں ہیں ان کے وفادار مسلمانوں کے بیانات آنے لگے ہیں جو اپنے لیڈر کا دفاع کررہے ہیں ،ان جماعتوں میں پھوٹ ڈالنے اور زمذاتی حیثیت سے شریک ہونے پر آمادہ کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ،کئی لوگوں نے اپنے موبائل آگ کرلیے ہیں ،نتیش سے رشتے بگاڑنا بہار میں مشکل چیلنج ہیں ،دیکھنا ہے کہ کون سواد اعظم کے ساتھ ہے اور جس کو ہر حال میں نتیش بابو عزیز جاں ہیں .

بہار میں جے ڈی یو کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے۔ بی جے پی، ایل جے پی (آر) اور ہندوستان عوام مورچہ بھی اس حکومت کا حصہ ہیں۔ مرکز کی مودی حکومت وقف (ترمیمی) بل 2024 لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ فروری 2025 میں مودی کابینہ نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کی تجویز کردہ 14 ترامیم کو منظوری دی۔ یہ ترامیم وقف املاک کے رجسٹریشن، تنازعات کے تصفیہ کے طریقہ کار اور وقف بورڈ کے ڈھانچے سے متعلق ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بل کی بعض شقوں پر اعتراض کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور بڑی مسلم تنظیموں نے وقف (ترمیمی) بل پر این ڈی اے کے اتحادیوں نتیش کمار، این چندرابابو نائیڈو اور چراغ پاسوان کے موقف کو دیکھتے ہوئے بڑا فیصلہ لیا ہے اور افطار، عید ملن اور دیگر پروگراموں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افطار پارٹی کا بائیکاٹ کرنے والی تنظیموں میں امارت شرعیہ، دونوں جمعیتہ ،جماعت اسلامی ہند ، جمعیت اہل حدیث، خانقاہ مجیبیہ، مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علمائے ہند،ملی کونسل اور خانقاہ رحمانی شامل ہیں۔ دیگر مسلم تنظیموں سے دوری برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی گئی ہے
دریں اثنا، جے ڈی یو کے ترجمان نول شرما نے کہایے کہ سیکولرازم کے تحفظ کے لیے نتیش کمار کی وابستگی سب کو معلوم ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں نتیش کمار نے بہار میں اقلیتوں کے وقار، روزی روٹی اور روزگار کے لیے اتنی شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ اور نتیش کمار پچھلے کئی سالوں سے افطار پارٹیوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن آر جے ڈی جس نے اپنے وقت میں بہار میں قبرستانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا تھا، مدرسہ کے اساتذہ کو بھوکا رکھا تھا اور بھاگلپور فسادات کے ملزمین کو تحفظ دیا تھا، اس طرح کی بات کیسے کر سکتی ہے؟