نئی دہلی:(ایجنسی)
گجرات کے آنند میں ہندو برادری کے لوگوںکے ذریعہ مسلم مالکوں کے ایک ہوٹل کے خلاف احتجاج کرنے کا معاملہ سامنے آیاہے ۔ گزشتہ 26 اکتوبرکو تقریباً 100 لوگوںکی بھیڑ نے ہوٹل بلیووی ( Blueivy) کے سامنے احتجاج کیا اور یہ مانگ کی کہ اس ہوٹل کو یہاں سے ہٹایاجائے۔ ہوٹل کے تین میں سے دو مالک مسلم ہیں ۔ احتجاج کرنے والوں کے اس گروپ میں ڈاکٹر،وکیل اورطلبہ جیسے کئی لوگ شامل تھے اور وہ رام بھجن گاتے ہوئے گنگا جل چھڑک رہے تھے، تاکہ اس علاقہ کا ’شدھی کرن‘ کیا جائے ۔
ان میں سے ایک، بنا بین پٹیل نے کہا، ‘یہ ہندو علاقہ ہے۔ یہ ایک مسلم ہوٹل ہے۔ اس ہوٹل کا یہاں ہونا ہماری ہندو ثقافت پر ایک کلنک ہے۔
ہوٹل بلیووی میں کوئی بھی نان ویجیٹیرین کھانا پیش نہیں کیا جاتا، جس میں بینکوئٹ ہال، ریستوراں اور کافی شاپس ہیں۔ یہاں تک کہ آملیٹ یا انڈے کی کوئی اور چیز بھی فروخت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہوٹل یہاں نہیں ہونا چاہیے۔دنیا کا سب سے بڑا دودھ کوآپریٹو ’امول‘ آنند میں واقع ہے۔ یہ ایک میٹروپولیٹن شہر بھی ہے۔ آنند کے ہر دوسرے گھرانے میں کوئی نہ کوئی این آر آئی (غیر مقیم ہندوستانی) تعلق ہے، لیکن پولرائزیشن نے خوبصورت شہر کو برسوں سے اپنی زد میں لے لیا ہے۔








