نئی دہلی 10؍ جولائ دہلی ہائی کورٹ نے آج متنازعہ فلم "ادے پور فائلز: کنہیا لال ٹیلر مرڈر” کی ریلیز پر روک لگا دی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی جانب سے فلم کی نمائش روکنے کے لیئے کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن پر آج لگاتار دوسرے روز بھی سماعت ہوئی ، فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا جس کے مطابق مولانا ارشد مدنی کو مرکزی سرکار سے رجوع کرنے کے لیے کہا ، آنے والے پیر تک مرکزی حکومت کے ادارے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ ان کے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ سے رجوع ہونے کی صورت میں ایک ہفتہ کے اندر مرکزی سرکار کو ان کی درخواست پر کارروائی کرنا ہوگی، عدالت نے مزید کہا کہ مولانا ارشد مدنی کی عرضداشت کی سماعت مکمل ہونے تک فلم کی ریلیز پر پابندی رہے گی۔
آج دوران بحث سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ فلم دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم ریلیز ہونے کے قابل ہی نہیں ہے ، اس فلم میں ہندوستانی مسلمانوں کو بدنام کیا گیا ہے ۔ انہوں نے دہلی ہائیکورٹ کو بتایا کہ فلم کے ٹریلر اور فلم سے چند متنازعہ سین کٹ کیئے گئے ہیں جبکہ یہ پوری فلم ہی نفرت پر مبنی ہے لہذا ایسی فلم کی نمائش سے ملک کے امن میں خلل پیدا ہوسکتاہے ۔اس فلم میں من گھڑت باتیں دکھائی گئی ہیں۔
جمعیۃعلماء ہند صدر مولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم تو حتمی فیصلے کے منتظر تھے لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظر کو ہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے جو ہمارے معاشرے میں منافرت کا زہر گھول سکتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ فلم کی نمائش پر پابندی اور اس تناظر میں دوسرے عدالتی احکامات سے بلا شبہ آئین کی بالادستی کو استحکام حاصل ہو اہے اور اس میں یہ پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ فن اور اظہار کے آزادی کے نام پر آپ آئینی و اخلاقی حدود کو ہرگز توڑ نہیں سکتے۔ ۔ہمیں خوشی ہے کہ ہماری کوشش کامیاب رہی اور ہمیں یقین ہے کہ حتمی فیصلہ بھی ان شاء اللہ ہمارے حق میں آئے گا








