"مسلمانوں کو میری گاڑی میں جانے کی اجازت نہیں ہے "، ایک ریپیڈو ڈرائیور نے مبینہ طور پر اپنے مسلمان مسافر کو صاف صاف کہااور تصدیق شدہ بکنگ کے باوجود لینے سے انکار کر دیا۔
یہ واقعہ ہفتہ، 21 مارچ کو قومی دارالحکومت میں پیش آیا، جب بھارت میں عید منائی جا رہی تھی
دراصل۔کیرالہ سے تعلق رکھنے والے اور نئی دہلی میں مقیم صحافی زین نے ریپیڈو کیب بک کرائی تھی۔انہیں سبھاش راوت کی خدمت سونپی گئی تھی۔ تاہم جب ہندو ڈرائیور تاوت کو معلوم ہوا کہ زین ایک مسلمان ہے تو اس نے آنے سے انکار کر دیا۔
"آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ مجھے اجازت نہیں ہے؟ کیونکہ میں مسلمان ہوں؟” زین پوچھتا ہے۔
’’ہاں، میری گاڑی میں مسلمانوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے، یہ تمہارے باپ کی گاڑی نہیں ہے،‘‘ راوت نے دو ٹوک جواب دیا اور صحافی کو فون کرنا بند کرنے کو کہا۔
ایپ میں راوت کی ریٹنگ 4.5 ہے۔زین نے سوشل میڈیا پر اپنی گفتگو کا ایک کلپ شیئر کیا، جو تیزی سے آن لائن وائرل ہو گیا، کئی صارفین نے پلیٹ فارم سے ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب Rapidکمپنی نے کہا کہ وہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے گی۔ Rapido نے ایک بیان جاری کیا، "آپ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم اپنے تمام مسافروں کے لیے ایک باعزت اور محفوظ تجربہ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”o نے اس رویے کو "مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے عوامی معافی نامہ جاری کیا ہے۔







