حکومت ہند نے 22 ستمبر سے جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔جی ایس ٹی کونسل کی 56ویں میٹنگ میں منظور کی گئی نئی شرحوں کے تحت 12 فیصد اور 28 فیصد کے سلیب کو ختم کر کے ان کی جگہ 5 فیصد اور 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ لگژری/گناہ کے سامان پر 40 فیصد کا نیا سلیب شامل کیا گیا ہے۔
جی ایس ٹی میں کی گئی یہ تبدیلیاں 22 ستمبر 2025 سے لاگو ہوں گی۔مرکزی حکومت اسے ایک اہم جی ایس ٹی اصلاحات قرار دے رہی ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے اسے دیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔بھارتی حکومت نے جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کا یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب بھارت امریکہ کے ساتھ ٹیرف کی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ اس ٹیرف وار سے امریکہ کو ہندوستانی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ہندوستان میں صنعت جی ایس ٹی میں کمی کو حکومت کے تحفے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔تجزیہ کار اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مجبوری میں اٹھائے گئے ایک قدم کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر اور معاشی معاملات کے ماہر ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں، "یہ واضح ہے کہ حکومت نے یہ قدم امریکہ کی جانب سے ٹیرف لگانے کے بعد دباؤ میں اٹھایا ہے، ورنہ جی ایس ٹی میں اصلاحات کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا”۔
پروفیسر ارون کمار کا کہنا ہے کہ "حکومت جانتی ہے کہ جی ایس ٹی میں کمی سے قیمتیں کم ہوں گی اور اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔ اگر حکومت کا مقصد صرف عام آدمی کو فائدہ پہنچانا ہوتا تو ایسا پہلے بھی کیا جا سکتا تھا۔ اب ایکسپورٹ سیکٹر میں مسائل بڑھ گئے ہیں، معیشت اس سے متاثر ہوتی، ان اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے یہ ٹیکس کٹوتی کی ہے جس کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سال 15 اگست کو ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے بعد لال قلعہ سے کیا تھا بھارت نے گزشتہ مالی سال میں امریکہ کو 87 بلین ڈالر کی اشیا برآمد کیں۔ اندازوں کے مطابق، ٹرمپ کے محصولات سے ہندوستان کی 55% سے 60% مصنوعات متاثر ہو سکتی ہیں۔ایسے میں اس کا اثر ہندوستانی برآمد کنندگان پر پڑ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ متاثرہ برآمد کنندگان جی ایس ٹی میں کمی کا فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔پروفیسر ارون کمار کا کہنا ہے کہ "جی ایس ٹی کم کرنے سے ظاہر ہے کہ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور مقامی مارکیٹ میں مانگ بڑھے گی۔ لیکن اس سے برآمد کنندگان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ جو سامان بیرون ملک بھیجا جاتا تھا وہ پہلے ہی سرپلس تھا۔”








